YaadeiNیادیں
آنکھیں چُرا کے ہم سے بہار آئے یہ نہیں
حِصے میں اپنے صِرف غبار آئے یہ نہیں
کُوئے غمِ حیات میں سب عُمر کاٹ دی
تھوڑا سا وقت واں بھی گُزار آئے یہ نہیں
خود عِشق قُربِ جسم بھی ہے قُربِ جاں کے ساتھ
ہم دُور ہی سے اُن کو پُکار آئے یہ نہیں
آنکھوں میں دل کھلے ہوں تو موسم کی قید کیا
فصل بہار ہی میں بہار آئے یہ نہیں
اب کیا کریں کہ حُسن جہاں ہے عزیز ہے
تیرے سوا کسی پہ نہ پیار آئے یہ نہیں
وعدوں کو خونِ دل سے لکھو تب تو بات ہے
کاغذ پہ قسمتوں کو سنوار آئے یہ نہیں