اسوہ یوسفیہ

حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں ٹھہراؤ اور اطمینان دیکھ کر بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ انہیں کسی کام کی جلدی نہیں ہے۔ سکون سے معاملات کو دیکھتے اور برداشت کرتے ہیں۔

جیل میں ان کے دو ساتھیوں نے خواب دیکھا تو تعبیر پوچھی۔ حضرت یوسف علیہ السلام تعبیر جانتے تھے لیکن پوچھنے کے فورا بعد نہیں بتائی۔ پہلے اچھا خاصا وقت توحید کی دعوت دینے پر لگایا، پھر تعبیر بتائی۔ ہم جیسا کوئی شخص ہوتا تو فورا تعبیر بتانے لگ جاتا کیونکہ ہم زیادہ دیر خاموش نہیں رہ سکتے۔

عزیز مصر کو خواب کی تعبیر بتائی تو اس نے حکم دیا کہ :

ائْتُوْنِیْ بِهٖۚ
یوسف کو میرے پاس لے کر آؤ۔ (سورت یوسف: 50)

لیکن حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کے ایلچی کو کہا کہ مجھے باہر نکلنے کی جلدی نہیں ہے۔ واپس اپنے مالک کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا قصہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے؟ میرا رب ان عورتوں کے مکر سے خوب واقف ہے۔ یہاں پر دیکھیے کہ حضرت یوسف علیہ السلام معاملے کو کتنے اطمینان کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ انہیں معاملہ کو سلجھائے بغیر باہر نکلنے کی ذرا جلدی نہیں۔

پھر جب حضرت یوسف علیہ السلام مصر کے بادشاہ بن جاتے ہیں تو ان کے بھائی غلہ لینے کےلیے فلسطین سے مصر پہنچتے ہیں۔ اس موقع پر قرآن کا بیان ہے :

فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ
تو یوسف نے انہیں پہچان لیا اور وہ یوسف کو نہیں پہچانے۔ (سورت یوسف: 58)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت یوسف علیہ السلام تو پہلی بار ہی اپنے بھائیوں کو پہچان چکے تھے لیکن اظہار کرنے میں جلدی نہیں کی۔ خاموشی سے ان کے معاملات کو دیکھتے رہے ۔

یقینا وہ کئی دن مصر میں ٹھہرے ہوں گے، بار بار حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے آتے رہے ہوں گے اور حضرت یوسف علیہ السلام کا دل بھی چاہتا ہوگا کہ بھائیوں کو اپنے بارے میں بتا دوں لیکن حوصلہ ، حوصلہ اور حوصلہ۔ ہر بات بتانے کا ایک وقت ہوتا ہے، وقت سے پہلے بتا دی جائے تو بات اپنی اہمیت کھو بیٹھتی ہے۔

پھر جب دوسری بار یہی بھائی غلہ لینے آئے تو اب بھی انہیں نہیں بتایا کہ میں یوسف ہوں۔ صرف اپنے سگے بھائی یعنی بنیامین کو اکیلے میں بلایا اور کہا:

اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ
یقین کرو کہ میں تمہارا بھائی ہوں۔ (سورت یوسف: 69)

ان کو اس لیے بتایا کیونکہ بعض لوگوں کو اپنا راز بتانا ایسے ہی ہوتا ہے جیسے کسی کو بتایا ہی نہیں۔

پھر جب برادران یوسف مصر سے جانے لگے تو ان پر چوری کا الزام لگا۔ وہ حیران رہ گئے اور کہنے لگے کہ ہمارا سامان دیکھ لیا جائے۔ جب سامان دیکھا گیا تو بنیامین کے تھیلے سے بادشاہ کا پیالہ نکل آیا۔ اس موقع پر بھائیوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے ان پر تہمت لگاتے ہوئے کہا:

اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُۚ-
اگر اس (بنیامین) نے چوری کی ہے تو (کچھ تعجب نہیں ، کیونکہ) اس کا ایک بھائی (یعنی یوسف) اس سے پہلے بھی چوری کر چکا ہے۔ (سورت یوسف: 77)

اب یہ موقع تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام بول پڑتے لیکن حوصلہ، حوصلہ اور حوصلہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْۚ
یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں چھپا لیا اور اسے ان کے سامنے ظاہر نہیں کیا۔ (سورت یوسف: 77)

پھر تیسری بار جب وہ غلہ لینے آئے تو اب بتایا کہ میں یوسف ہوں۔ بھائیوں نے معافی مانگی تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا:

لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَؕ-یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ٘-وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ
آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہوگی۔ اللہ تمہیں معاف کرے ، وہ سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ (سورت یوسف: 92)

یہ الفاظ اتنے حوصلے کے ساتھ ادا کیے گئے ہیں کہ لگتا ہے حضرت یوسف کے ساتھ ان کے بھائیوں نے کبھی کوئی قابلِ ملامت کام کیا ہی نہیں۔ دو تین جملوں میں سالہا سال کے حسد کو معاف کر کے رکھ دیا۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ اس کےلیے صبر اور حوصلہ چاہیے۔

پھر جب چوتھی بار سارے بھائی اپنے والدین کے ساتھ مصر پہنچے اور حضرت یوسف علیہ السلام نے انہیں تخت پر بٹھایا اور اللہ تعالی کی نعمتوں کو یاد کیا تو فرمانے لگے:

وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ
میرے رب نے مجھ پر بڑا احسان کیا کہ مجھے قید خانے سے نکال دیا۔ (سورت یوسف: 100)

یہاں جیل سے نکلنے کا ذکر تو کیا لیکن کنویں سے نکلنے کا ذکر نہیں کیا کیونکہ سامنے بھائی بیٹھے تھے۔ انہیں شرمندگی ہوتی۔ یہ کام با حوصلہ شخص ہی کر سکتا ہے جس میں صبر کوٹ کوٹ کر بھرا ہو۔

ہم سورت یوسف میں حضرت یعقوب علیہ السلام کا صبر تو پڑھتے ہیں لیکن کبھی حضرت یوسف علیہ السلام کا صبر نہیں پڑھا۔ حالانکہ ان کی زندگی بھی اپنے والد کے صبر کا پرتو ہے۔

اس ساری بات کا حاصل یہ ہے کہ انسانی زندگی میں ٹھہراؤ کی بہت اہمیت ہے۔ تھوڑا سا رُک جانا، صحیح وقت کا انتظار کرنا، بات اُگلنے میں جلدی نہ کرنا، راز کو دبا کر رکھنا، معاملات کو خاموشی سے دیکھتے رہنا، ہر بات کا ترکی بہ ترکی جواب نہ دینا، بھاگم بھاگ سے بچنا، ایک معاملہ ادھورا چھوڑ کر دوسرے معاملے میں چھلانگ نہ لگانا، انتقام کی روش نہ پالنا، “میں معاف کرتا ہوں” کے بجائے ” اللہ تمہیں معاف کرے” کہنا۔ یہ سارے کام اُسوہ یوسفیہ ہیں۔

اگر ہمارے اندر یہ اعمال پیدا ہو جائیں تو ہماری روح حضرت یوسف علیہ السلام کے کردار کی خوشبو محسوس کر سکتی ہے۔

اللہ تعالی ہمیں حضرت یوسف علیہ السلام کی سیرت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top