تقوی

یہ قول مولانا جلال الدین رومی کے فکری مزاج کو پوری طرح سمیٹ لیتا ہے۔

رومی کے نزدیک تقویٰ کسی ظاہری پابندی کا نام نہیں۔ یہ اندر جاگنے والا شعور ہے۔
خدا انسان کو اختیار دیتا ہے، مگر اس اختیار کے ساتھ ذمہ داری بھی رکھ دیتا ہے۔ تقویٰ اسی ذمہ داری کا احساس ہے۔

انسان کی پہچان اس بات سے نہیں ہوتی کہ وہ کیا کر سکتا ہے۔
اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ کیا نہ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

جب نظر سامنے ہو، راستہ کھلا ہو، اور دل مائل بھی ہو،
تب اگر انسان حق کو چن لے، تو یہی وہ مقام ہے جہاں تقویٰ خاموشی سے غالب آ جاتا ہے۔

رومی کے ہاں تقویٰ خوف سے نہیں جنم لیتا۔
وہ سمجھ سے پیدا ہوتا ہے۔
اور یہی سمجھ انسان کو خواہش کے شور سے نکال کر وقار کی طرف لے جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ رومی کا تقویٰ انسان کو جھکا نہیں دیتا۔
اسے سنبھال کر کھڑا کر دیتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top