تمہارے سامنے پھر خم کروں جبین ؟ نہیں
وہاں پہ کیسی عقیدت جہاں یقین نہیں
میں سب سے پوچھتی رہتی ہوں اس کے بارے میں
رقیب مجھ سے زیادہ تو دلنشین نہیں ؟
مداری موت کا کرتب دکھانے والا ہے
تماشہ گاہ میں لیکن تماشبین نہیں
یہاں پہ پل نہیں سکتا تمہارے جیسا کوئی
یہ آستانہ ہے دل کا یہ آستین نہیں
ہجومِ دلبراں بھی ساتھ لے کے پھرتا ہے
وہ میرا قرب بھی مانگے ہے ، آفرین نہیں
یہاں رفوگری بھی کام آ نہیں سکتی
بھروسہ جوڑنے والی کوئی مشین نہیں
کبھی وہ دن تھے کہ ٹکتے نہ تھے زمین پہ پیر
اور اب یہ دن ہیں کہ پیروں تلے زمین نہیں