جینا ذرا محال نہیں کر سکے مرا
دکھ منتشر جمال نہیں کر سکے مرا
کل مسکرا رہے تھے سرِ بزمِ دوستاں
تم ایک دن ملال نہیں کر سکے مرا
کوشش تو کی مسیحا مگر زندگی کے ساتھ
بس رابطہ بحال نہیں کر سکے مرا
اتنی جوان مرگ تھی اور اس کے باوجود
غم لوگ حسب حال نہیں کر سکے مرا
دیکھا ناں ٹوٹ پھوٹ گیا جابجا وجود
تم دوست تھے خیال نہیں کر سکے مرا