پطرس بخاری مرحوم کو کالج چھوڑنے کے کئی سال بعد یاد آیا کہ انہوں نے کالج کنٹین کے کھاتہ کی ادائیگی نہیں کی تھی۔ اب کچھ جسمانی و مالی فراغت میسر تھی تو سوچا بنفس نفیس کالج جا کر کھاتہ کلئیر کیا جائے اور یادیں بھی تازہ کی جائیں!
پطرس کالج گئے اور کنٹین مالک کو اپنا تعارف اور تعلیمی سال یاد کرواتے ہوئے کھاتہ رجسٹر کھلوایا تو ان کے ذمہ 12 روپے واجب الادا نکلے۔ بخاری صاحب نے بصد شکریہ و معذرت 12 روپے پیش کرنا چاہے تو کنٹین مالک نے تاریخی جملہ کہا :”بخاری صاحب! آپ کا کیا خیال ہے کہ پچھلے 12 سال میں جو رائے میں نے آپکے بارے میں قائم کی ہے یہ 12 روپے لینے کے بعد وہ بدل جائیگی؟”