رقص کرتی ہواؤں کو۔۔۔۔

رقص کرتی ہوئی ہوائوں کو
ہم نے ماتم میں ڈھلتے دیکھا ہے

اُس نے چھوڑا ہے ہاتھ میرا یہاں
پھر وہاں ہاتھ ملتے دیکھا ہے

تھم گئے تھے یہ قدم جس کیلئے
سامنے سے یوں چلتے دیکھا ہے

ہاتھ سے جو لگا کے بھول گئے
اُس چمن کو بھی کھلتے دیکھا ہے

جو ارادے میں تھے بہت پختہ
اُن کے قدموں کو ہلتے دیکھا ہے

آپنے دامن کو جو بچاتے تھے
سب کے دامن کو جلتے دیکھا ہے

ہر کہیں داغِ دل دکھا نہ جمیل
سارے زخموں کو سِلتے دیکھا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top