یہ جملہ منٹو کے ناول “بغیر عنوان کے” میں ایک ایسے لمحے میں آتا ہے جب کردار بار بار راستہ بدلنے کے باوجود وہیں آ کھڑا ہوتا ہے جہاں سے بھاگا تھا۔
“زندگی خود راستے بناتی ہے، راستے زندگی نہیں بناتے۔”
یہ محض حوصلہ افزا بات نہیں۔
یہ تقدیر اور اختیار کے درمیان ایک خاموش مکالمہ ہے۔
آپ راستہ چنتے ہیں۔
زندگی آپ کو چنتی ہے۔
کچھ موڑ آپ کے فیصلے ہوتے ہیں۔
کچھ موڑ آپ کے نصیب۔
آخرکار اہم یہ نہیں کہ آپ کہاں چل پڑے،
اہم یہ ہے کہ اس سفر میں آپ کیا بن گئے