شعور سے لا شعور تک

انسان ہمیشہ کیوں اداس ، پریشان ،گھبرایا ہوا ،ڈپریشن اور ٹینشن میں رہتا ہے وہ زندگی میں کبھی مطمئن اور خوش کیوں نہیں ہوتا؟
اس حوالے سے جوزف مرفی کی ایک کتاب ہے اس کا نام “ دی پاور آف سب کونشیئس مائنڈ “ یعنی آپ کے لاشعوری ذہن کی طاقت”

جوزف مرفی نے اس کتاب میں انسانی نفسیات کا مکمل نچوڑ نکالا ہے وہ لکھتے ہیں کہ انسانی دماغ دو طرح سے کام کرتا ہے دماغ کا صرف دس فیصد حصہ شعور پہ مبنی ہے جبکہ نوے فیصد لاشعور ہے ، شعور آپ کے دماغ کا سب سے اہم پائلٹ یعنی کسی بڑے جہاز کا کپتان ہے جبکہ نوے فیصد لاشعور اس جہاز کا وہ عملہ ہے جو کچھ بھی سنے سمجھے بولے اور پوچھے بغیر صرف کپتان کے آرڈر کو فالو کرتا ہے، بلکہ وہ یہاں تک لکھتے ہیں کہ لاشعور ایسا ہے جو اپنی طرف سے کسی ہنسی مذاق بلکہ حقیقت اور خیالی دنیا میں بھی بال برابر کوئی فرق نہیں کر سکتا
جب انسان سارا دن یہ سوچتا ہے کہ میں بیمار ہوں میں کمزور ہوں میرے حالات اور وقت ہی برا چل رہا ہے تو یہ سب کچھ وہ دس فیصد شعوری حصے سے کر رہا ہوتا ہے شعور فورا وہ سارے سگنل آگے لاشعور تک پہنچا دیتا ہے اور جیسا اوپر بتایا کہ لاشعور میں خود کسی چیز کو ہرکھنے یا اس میں فرق کرنے کی تمیز سرے سے موجود ہی نہیں ہے کہ یہ محض حقیقت ہے یا خیالی باتیں چنانچہ وہ ان منفی سوچوں اور خیالات کو ہی سچ اور حقیقت سمجھتا ہے اور یوں وہ انسان کو واقعی بیمار اور نکما بنا دیتا ہے، کتاب میں وہ بے شمار مثالیں دیتے ہیں کہ کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی آپ دنیا میں سب سے خوشی والی زندگی گزار سکتے ہیں اگر آپ نے اپنے اس دس فیصد شعور والے حصے پہ کنٹرول کر لیا جو انسانی جسم اور دماغ کا کپتان ہے، وہ اس کے طریقے بھی بتاتے ہیں کہ کس طرح آپ اس پہ کنٹرول کر سکتے ہیں
شعور اور لاشعور کی وہ ایک مثال یہ پیش کرتے ہیں کہ اگر زمین کے اوپر کوئی لکڑی کا ایک تختہ رکھے اور پھر آپ کو اس پہ چلنے کا کہے تو آپ فورا چلنے لگیں گے کیوں کہ شعور کے نزدیک اس میں کوئی خطرہ نہیں ہے چنانچہ لاشعور کو وہ گرین سگنل دیتا ہے لیکن پھر اگر وہی تختہ کوئی زمین سے اٹھا کر دو اونچی عمارتوں پہ رکھ کر کہے کہ آپ اس کے اوپر چلیں تو ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں شعور تک یہ بات پہنچ جائے گی کہ یہ مکمل خطرہ اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور وہ یہ سگنل فورا لاشعور کو پہنچاتا ہے ، اب تختہ بھی وہی ہے اور آپ بھی وہی لیکن آپ کبھی اس پہ نہیں چلیں گے کیوں کہ شعور نے فورا آپ کے لاشعور کے اندر یہ بات پہنچا بلکہ نقش کر دی کہ اب اس پہ چلنا بہت خطرناک ہے

ایک اور مثال دیتے ہیں کہ سمندری سفر کے دوران اگر کوئی شخص کسی دوسرے انسان سے کہے کہ تم بیمار لگ رہے ہو تمہیں الٹی آنے والی ہے تو اس شخص کا لاشعور فورا اس بات کو حقیقت سمجھ لے گا تاہم اگر وہی بات کوئی اسی سمندری جہاز کے عملے یا کپتان سے کہے تو وہ ہنسے گا کیوں کہ اس کا لاشعور پختہ ہے کہ اسے نہ تو الٹی آئے گی اور نہ ہی وہ بیمار ہوتا ہے،
بلکہ وہ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں جب ابھی بیہوش اور نمب کرنے کی دوائیں ایجاد نہیں ہوئی تھیں اس وقت بھی کئی ڈاکٹروں نے مریضوں کے بڑے بڑے آپریشن بغیر کسی درد اور تکلیف کے کئے اور انہوں نے بھی مریضوں کو ایک خاص حالت میں لے جا کر ان کے لاشعور میں یہ بات ڈالی کہ کسی قسم کا کوئی درد یا تکلیف نہیں ہو گی چنانچہ لاشعور خود فرق نہیں کر سکتا سو اس نے سچ اور حقیقت سمجھا اور پھر واقعی ان مریضوں کو کوئی درد یا تکلیف نہیں ہوئی ، وہ کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں لوگ ہر جڑی بوٹی پتھر مندر حکیم اور چرچ وغیرہ سے شفایاب ہو جاتے تھے اور اس میں سارا کمال ان کے لاشعور کا تھا انہوں نے لاشعور کو ایسا بنایا ہوا تھا کہ بس ہم وہ جائیں گے اور ٹھیک ہو جائیں گے یا یہ مسئلہ حل ہو جائے گا چنانچہ لاشعور فورا ایسا ہی کر کے انہیں ٹھیک کر دیتا
ایک اور مثال وہ پیش کرتے ہیں کہ انیسیویں صدی میں یورپ کے ایک ہسپتال کے ایک بیڈ پہ ایک مریض کئی سال سے پڑا ہوا ہے جسے ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ وہ کبھی اب چل پھر نہیں سکتا، اس کا جسم اپاہج ہو چکا ہے لیکن اسی دوران شدید زلزلہ آ گیا اور وہ شخص نہ صرف خود اٹھا بلکہ بھاگنے اور دیگر لوگوں کی مدد کرنے میں بھی کامیاب ہو گیا یہ واقعہ دیکھ اور سن کر تمام ڈاکٹر اور سائنسدان حیران رہ گئے لیکن یہ کوئی معجزہ نہیں تھا بلکہ اس کے لاشعور نے فورا خطرے کو بھانپا اور اسے کہا کہ تم اٹھ سکتے ہو چل سکتے چنانچہ وہ فورا اٹھا اور بھاگ نکلا، اس مثال سے آپ شعور اور لاشعور کی طاقت سمجھ سکتے ہیں
وہ کہتے ہیں کہ شعور ایک کسان ہے جبکہ لاشعور زمین ہے، کسان جو کچھ زمین میں بوئے گا زمین ویسی اور وہی فیصل پیدا کرے گی زمین میں خود سے یہ صلاحیت موجود نہیں ہے کہ وہ فیصلہ کر سکے کہ یہ پھلدار بیچ ہے یا زہریلا
آپ جو کچھ اور جیسے خیالات شعور سے اپنے لاشعور میں بھیجیں گے وہ انہیں پہ عمل کرے گا، آپ ارب پتی ہوں اور شعور ہر وقت سوچے کہ تم غریب ہونے والے ہو تو لاشعور آخر انسان کو ویسا ہی کر دیتا ہے اور اگر آپ منفی چیزوں کے بجائے یہ سوچیں کہ تمہارا ہر دن پچھلے دن سے بہتر ہے تو شعور وہی بات لاشعور تک پہنچاتا ہے اور یوں پھر رفتہ رفتہ ایک دن آتا ہے جب آپ اس ساری دنیا سے الگ یعنی خوشحال بن جاتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top