عشق صوفیانہ

مشہور مفکر خلیل جبران نے اپنی زندگی میں پانچ عورتوں سے محبت کی، جن میں ایک لبنانی خاتون حلا، ایک فرانسیسی لڑکی میشلن، دو امریکی خواتین میری ہیسکل اور باربرا ینگ اور ایک مصری خاتون می زائدہ شامل تھیں، خلیل جبران نے دنیا کے بہت سے ممالک کے سفر کئے، یہ محبتیں انہی سفروں کے دوران پروان چڑھیں، مصری خاتون می زائدہ وہ واحد خاتون تھیں کہ جن سے خلیل جبران کی کبھی بالمشافہ ملاقات نا ہو سکی، ان دونوں کا تعلق تمام عمر لفظوں کے مقدس پیکر میں ہی محفوظ رہا، شاید اسی کی بدولت ان کی یہ محبت امر ہو گئی۔

خلیل جبران کی اپنی محبوبہ می زیادہ سے محبت بغیر کسی ملاقات اور دیدار کے بیس سال تک چلتی رہی، جبران نیویارک میں مقیم تھا جںکہ می زیادہ قاہرہ میں رہتی تھی، دنیا کے دو کونوں سے دونوں باقاعدگی سے باہم خطوط کا تبادلہ کیا کرتے تھے، ایک خط میں جبران نے می زیادہ کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا اور می زیادہ سے اس کی تصویر مانگی تو می زیادہ نے جوابی خط میں لکھا کہ “جبران سوچو اور تصور کرو کہ میں کیسی دِکھتی ہوں گی”.

خلیل جبران نے اسے لکھا کہ “مجھے لگتا ہے تمہارے بال چھوٹے ہوں گے جو دونوں اطراف سے تمہارا خوبصورت چہرہ ڈھانپ لیتے ہوں گے”.
لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا، اس وقت کے رواج کے برعکس می زیادہ نے بڑی توجہ اور کوشش کے ساتھ اپنے بال لمبے کر رکھے تھے، اپنے کمر تک لمبے سیاہ گھٹاؤں جیسے گھنے بال می زیادہ کو نہائت عزیز تھے، جن کا وہ بہت خیال رکھتی تھی،
لیکن خلیل جبران کا خط پڑھ کر می زیادہ نے اپنے خوبصورت لمبے بال کاٹ ڈالے اور ایک خط کے ساتھ اپنے چھوٹے بالوں والی تصویر خلیل جبران کو بھیجی.
خلیل جبران نے می زیادہ کی تصویر دیکھی تو لکھا “آہاااا۔۔۔۔ تم نے دیکھا, میرا تصور بالکل سچا تھا…..!!”
حقیقت میں خلیل جبران کا تصور ناقص تھا، البتہ می زیادہ نے ثابت کیا کہ اس کی محبت کامل تھی”۔

“کسی کو اپنے سانچے میں ڈھال لینا ہرگز محبت نہیں ہے، ہاں اپنی ذات کی نفی کر کے خود محبوب کے من پسند سانچے میں ڈھل جانا محبت کی معراج ہے”.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top