نہ کٹی ہم سے شب جدائی
کتنی ہی طاقت آزمائی کی
رشکِ دشمن بہانہ تھا سچ ہے
میں نے ہی تم سے بے وفائی کی
دام عاشق ہے دل دہی نہ ستم
دل کو چھینا تو دل ربائی کی
آگے وہ دست غیر میں دے ہاتھ
آس ٹوٹی شکستہ پائی کی
گھر تو اس ماہ وش کا دور نہ تھا
لیک طالع نے نارسائی کی