تم بیمار پڑ جاؤ تو تیمارداری عورت کا فرض،
تم بانجھ ہو جاؤ تو صبر عورت کا فرض،
تم دوسری، تیسری، چوتھی شادی کر لو تو وفاداری عورت کا فرض۔
تم پردیس جا کر نئی زندگیاں بسا لو،
کسی اور کو اپنا لو،
مگر انتظار عورت کا فرض۔
تم بے راہ روی اختیار کرو،
بدزبانی کرو،
تشدد کرو،
مگر حیا، برداشت اور خاموشی عورت کا فرض۔
تم ظلم کرو،
مارو، پیٹو،
اپنے ہر عمل کے جواز میں دلیلیں اور حوالہ جات تلاش کر لو،
مگر عورت اگر اپنے تحفظ، عزت اور حق کے لیے ایک لفظ بھی بول دے تو اسے سرکش قرار دے دیا جائے۔
تم قتل کرو تو تمہارے دفاع میں آوازیں اٹھ کھڑی ہوں،
تمہارے جرائم کے لیے بہانے تراشے جائیں،
مگر عورت پر ظلم ہو تو اکثر اس سے ہی پوچھا جاتا ہے:
“اس نے کیا کیا تھا؟”
عورت پر تیزاب پھینکا جائے،
اسے غیرت کے نام پر قتل کر دیا جائے،
اس کی زندگی چھین لی جائے،
اور معاشرہ اب بھی اس کے کردار کا حساب مانگتا رہے۔
یہ کیسا نظام ہے؟
یہ کیسا انصاف ہے؟
جہاں جرم کرنے والے سے زیادہ سوال ظلم سہنے والے سے کیے جاتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ صرف چند افراد کا نہیں،
یہ سوچ کا مسئلہ ہے،
اس معاشرتی ڈھانچے کا مسئلہ ہے جس نے عورت کو انسان سے پہلے ذمہ داری، قربانی اور خاموشی کا استعارہ بنا دیا ہے۔
دنیا آگے بڑھ چکی ہے۔
عورتیں علم، قیادت، معیشت اور سیاست کے میدانوں میں اپنی صلاحیتیں منوا چکی ہیں،
مگر ہمارے معاشرے میں آج بھی عورت کو سب سے زیادہ خطرہ اکثر انہی رشتوں سے ہوتا ہے جن سے اسے تحفظ ملنا چاہیے۔
باپ ہو،
بھائی ہو،
شوہر ہو،
بیٹا ہو،
یا کوئی اجنبی مرد
عورت کو تحفظ نہیں، برابری نہیں، بلکہ اپنے بنیادی انسانی حقوق کی جنگ لڑنی پڑ رہی ہے۔
جس دن عورت کو انسان سمجھ لیا جائے گا،
اس دن شاید انصاف، غیرت اور اخلاقیات کے معنی بھی بدل جائیں گے۔