پانچ ستون، ایک انسان
(بچہ، والدین، استاد، پرنسپل اور نصاب
یہ پانچ چیزیں اگر ایک لائن میں آ جائیں،
تو ایک انسان بنتا ہے۔
ایک کامیاب انسان،
ایک تخلیقی دماغ،
ایک نیا آئیڈیا،
ایک نئی سوچ،
اور ایک نیا ماڈل دنیا میں آتا ہے۔
ان پانچوں کے ملنے سے
نہ صرف ایک فرد بنتا ہے،
بلکہ ایک پورا معاشرہ سنورتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے
جہاں سائنسدان،
مفکر،
اصلاح کرنے والے،
اور تاریخ بدلنے والے لوگ پیدا ہوتے ہیں۔
لیکن ہمارا المیہ یہ ہے
کہ یہ پانچوں چیزیں
ایک پلیٹ فارم پر نہیں۔
ہر ایک کا قبلہ الگ ہے،
ہر ایک کی سمت الگ ہے،
اور ہر ایک کا وژن الگ۔
استاد کچھ اور سوچ رہا ہوتا ہے،
پرنسپل کچھ اور۔
پرنسپل کا وژن
استاد تک پہنچتا ہی نہیں،
اور استاد اس وژن کا حصہ ہی نہیں بنتا۔
نصاب کہیں اور سے آتا ہے،
جس کی تیاری میں
نہ استاد شامل ہوتا ہے،
نہ بچے کی ذہنی سطح دیکھی جاتی ہے۔
سکول کا ماحول کچھ اور کہانی سناتا ہے،
اور والدین کے خواب کچھ اور ہوتے ہیں۔
والدین بچے کو کچھ اور بنانا چاہتے ہیں،
سکول اس سے کچھ اور بنوانا چاہتا ہے،
اور استاد بیچ میں پس رہا ہوتا ہے۔
یہ تضاد،
یہ بکھراؤ،
یہ کنفیوژن —
سب سے زیادہ نقصان
کسی اور کو نہیں،
صرف بچے کو ہوتا ہے۔
سکول میں اگر سیاست ہو،
لابنگ ہو،
اندرونی لڑائیاں ہوں،
تو اس کا خمیازہ
بچہ بھگتتا ہے۔
وہ انسان بننے سے رہ جاتا ہے،
وہ قیمتی وقت کھو دیتا ہے،
جو دوبارہ نہیں آتا۔
ہم بڑے بڑے نعرے لگاتے ہیں:
ہم انسان بنا رہے ہیں،
ہم لیڈر بنا رہے ہیں،
ہم سائنسدان بنا رہے ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے
کہ اس بکھرے ہوئے نظام میں
ہم صرف نعرے ہی بنا پاتے ہیں،
انسان نہیں۔
جب استاد اور پرنسپل ایک پیج پر نہ ہوں،
جب نصاب زمینی حقیقت سے کٹا ہو،
جب والدین سکول کے دشمن بن جائیں،
اور بچہ صرف تجربہ گاہ بن جائے —
تو وہاں سے تخلیق نہیں نکلتی،
وہاں سے صرف الجھن نکلتی ہے۔
دنیا کی ہر کامیاب قوم نے
ایک بات سمجھ لی:
بچہ اکیلا نہیں بنتا۔
اسے ایک ہم آہنگ نظام بناتا ہے۔
ایک سمت،
ایک وژن،
ایک مقصد۔
جب پانچوں ستون
ایک دوسرے کے مخالف ہوں،
تو عمارت نہیں بنتی،
صرف ملبہ بنتا ہے۔
اور افسوس —
ہم اسی ملبے میں
انسان تلاش کر رہے ہیں۔
ذرا دو منٹ رک کر سوچیے:
کیا واقعی ہمارے سکول میں
یہ پانچوں چیزیں
ایک پلیٹ فارم پر ہیں؟
یا ہم ایک کنفیوژن میں
نسلیں قربان کر رہے ہیں؟