کبھی تمنا کے راستوں پر
نکل پڑو تو خیال رکھنا
ہوائیں، بادل، فضائیں، موسم، خیال
چہرے بدل بدل کر تمہیں ملیں گے
تو لمحہ لمحہ بدلتے رنگوں کے
شوق دھوکے میں آ نہ جانا
کبھی جو چاروں طرف تمہارے
کرن کرن اپنا خواب سا بدن نکھارے
زمین پہ اترے
تو دھندلکوں میں سما نہ جانا
کبھی جو آنکھوں میں چاند ہنس ہنس کے
چاندنی کا خمار بھر دے
تو اپنی آنکھیں کہیں خلا میں گنوا نہ آنا
کہ یہ نہ ہو پھر جو خواب ٹوٹے
دھنک دھنک سراب ٹوٹے
کہ جسم و جاں پر عذاب ٹوٹے
اور تم بمشکل لرزتے ہاتھوں سے
کرچی کرچی بدن سنبھالے
کہیں بلندی پہ چڑھ کے
رستی ہوئی نگاہوں سے
واپسی کے نشان ڈھونڈو
اجڑ گیا جو جہان ڈھونڈو
کبھی تمنا کے راستوں پر
نکل پڑو تو خیال رکھنا
کہیں سے خالی پلٹ کے آنا
بہت کٹھن ہے۔۔۔