کبھی تو بدلے یہ ماتمی رُت اُداسیوں کی
مری نگاہوں میں ایک سا شہرِ خواب کیوں ہے
کبھی کبھی تیری بے نیازی سے خوف کھا کر
میں سوچتا ہوں کہ تو میرا انتخاب کیوں ہے
ترس گئے میرے آئینے اس کے خال و خد کو
وہ آدمی ہے تو اس قدر لاجواب کیوں ہے
اُسے گنوا کر پھر اس کو پانے کا شوق کیسا
گناہ کر کے بھی انتظارِ ثواب کیوں ہے
اسے تو محسنؔ بلا کی نفرت تھی شاعروں سے
پھر اس کے ہاتھوں میں شاعری کی کتاب کیوں ہے
محسن نقوی