کوئی تری زلفوں کا تمنائی ہے
تو کوئی تری آنکھوں کا شیدائی ہے
..
ہر لب پہ ترے حسن کا ہی چرچا ہے
مشہور تری شہر میں رعنائی ہے
..
اس شہر میں یوسف سا نہیں کوئی بھی
ہر سمت زلیخا سی ادا چھائی ہے
..
ہر غیر سے ملتا ہے تو جو ہنس ہنس کر
اے جانِ تمنا یہ بھی رسوائی ہے
..
ہر آنکھ یہاں چشمِ براہ لگتی ہے
ہر آنکھ تری دید کی شیدائی ہے
..
دل سوز سی بستی ہے مرے خوابوں کی
ہر خواب تری یاد کی پرچھائی ہے
..
ہر شب کوئی محفل تو سجا لیتا ہوں
اس دل میں مگر عجب سی تنہائی ہے
..
ہر بار تری یادوں میں پی لیتا ہوں
ہر بار نا پینے کی قسم کھائی ہے
..
خوشبو ہوا کے ساتھ چلی آتی ہے
لی یار نے شاید ابھی انگڑائی ہے
..
ہم تو تری اس ذوقِ نظر میں ناتھے
یہ آنکھ کسے دیکھ کے بھر آئی ہے
..