یوم النحر (یومِ عید الاضحیٰ) اور حج
اسلام میں یوم النحر (10 ذوالحجہ) حج کا سب سے اہم دن مانا جاتا ہے۔ اسی دن کو عید الاضحیٰ بھی کہا جاتا ہے، اور یہ دن حاجیوں اور غیر حاجیوں دونوں کے لیے بہت بڑی عبادت کا دن ہوتا ہے۔
حج کے دوران یوم النحر (10 ذوالحجہ) کو حاجی کیا کرتے ہیں:
یوم النحر کو حج کے چار بڑے اعمال انجام دیے جاتے ہیں، جنہیں “أیام الحج الاکبر” کا حصہ کہا جاتا ہے:
1. رمیِ جَمرَۃُ العَقَبَہ (شیطان کو کنکریاں مارنا):
حاجی سب سے پہلے جمرہ عقبہ (بڑی شیطان) کو سات کنکریاں مارتے ہیں۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، جب انہوں نے شیطان کو دھتکارا تھا۔
2. قربانی:
اس کے بعد حاجی اللہ کی رضا کے لیے جانور کی قربانی کرتے ہیں۔ یہ بھی حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی سنت کی پیروی ہے۔
3. حلق یا تقصیر (بال منڈوانا یا کٹوانا):
پھر حاجی اپنے سر کے بال منڈواتے یا کٹواتے ہیں، جو احرام سے نکلنے کی علامت ہے۔
4. طوافِ افاضہ:
آخر میں حاجی مکہ واپس جا کر کعبہ کا طواف (طوافِ افاضہ) کرتے ہیں، جو حج کا ایک فرض رکن ہے۔
یوم النحر کا مقام:
• قرآن میں اسے “یوم الحج الاکبر” (سب سے بڑا حج کا دن) کہا گیا ہے۔
• اس دن کی عبادات، خاص طور پر رمی، قربانی، اور طواف افاضہ، حج کو مکمل کرتی ہیں۔
• دنیا بھر کے مسلمان بھی اسی دن قربانی کرتے ہیں، اور اسے عید الاضحیٰ کے طور پر مناتے ہیں۔
خلاصہ:
یوم النحر، حج کا مرکزی دن ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنتوں پر عمل کا دن ہے۔ یہ دن ایمان، قربانی، اطاعت اور توحید کے پیغام کا مظہر ہے۔