ھزار شُکر کہ ھم اھل حرف زندہ نے
غنیم سے بھی عداوت میں حد نہیں مانگی
کہ ھار مان لی لیکن مدد نہیں مانگی
ھزار شکر کہ ھم اھل حرف زندہ نے
مجاوران ادب سے سند نہیں مانگی
بہت ھے لمحۂ موجود کا شرف بھی مجھے
سو اپنے فن سے بقائے ابد نہیں مانگی
قبول وہ جسے کرتا وہ التجا نہیں کی
دعا جو وہ نہ کرے مسترد نہیں مانگی
میں اپنے جامۂ صد چاک سے بہت خوش ھوں
کبھی عبا و قبائے خرد نہیں مانگی
شہید جسم سلامت اٹھائے جاتے ھیں
جبھی تو گور کنوں سے لحد نہیں مانگی
میں سر برھنہ رھا پھر بھی سر کشیدہ رھا
کبھی کلاہ سے توقیر قد نہیں مانگی
عطائے درد میں وہ بھی نہیں تھا دل کا غریب
فرازؔ میں نے بھی بخشش میں حد نہیں مانگی
احمد فراز