مزیدار چکن پکوڑے
<span;>چکن پکوڑا بنانے کے لئے جو اجزاء چاہییں ان میں چکن۔ایک کلو، بون لیس یا ہڈی کے ساتھ جو بھی لینا چاہیں۔ بیسن ۔ چار چمچ۔ کارن فلور۔ تین چمچ ۔ لیوں کا رس ایک چمچ۔ سفید سرکہ ایک چمچ ادرک لہسن پاوڈر۔ آدھا چمچ، پاوڈر نہیں ہے تو پیسٹ بھی ڈال سکتے ہیں۔ سرخ […]
دماغ کو تیز کرنے کے اصول
ذہن کو تیز کرنے کے پندرہ اٹل اصول دماغ ایک پٹھا (Muscle) ہے۔ اگر آپ اسے آرام دیں گے، تو یہ کمزور (Atrophy) ہو جائے گا۔ اسے تیز کرنے کے لیے اسے چیلنج، دباؤ اور تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ ہیں ذہن کو تیز کرنے کے 15 اٹل اصول۔ 1. ملٹی ٹاسکنگ ذہن کا […]
دلوں کے زنگ
دوسروں کی بغیر لحاظ تنقید کرتے رہنا ہمارے خود کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔۔۔ بے وجہ کی نفرت اور کالا پانی ہم اپنے اندر جمع کرتے جاتے ہیں ۔۔گزرتے گزرتے یونہی بلاوجہ کسی کو کوئی بھی سخت جملہ فقط اپنی کسی تسکین کی خاطر بول دینا یا محض سامنے والے کو تنگ کرنا سامنے […]
کوئی خواب میکوں ادھارا نہ ڈیویں ۔۔۔۔
نبھا نہ سکیں تاں ، سہارا نہ ڈیویں کوئی خواب میکوں ، اُدھارا نہ ڈیویں زمانے دے رلے جے ماریں تُوں پتھر رَقیباں نُوں اَکھ دا ، اشاره نہ ڈیویں میڈا ہتھ پکڑ کے جے ول چھوڑ ڈیویں بھنور اِچ میں ٹھیک آں ، کناره نہ ڈیویں سجن تیڈی نفرت ، ملاوٹ توں پاک اے […]
نظر نظر بے قرار سی ہے۔۔۔۔
ساغرؔ صدیقی ¹⁹⁷⁴-¹⁹²⁸ درویش شاعر نظر نظر بے قرار سی ہے ، نفس نفس پُر اسرار سا ہے مَیں جانتا ہُوں کہ تم نہ آؤ گے‘ پھر بھی کُچھ انتظار سا ہے مِرے عزیزو ! میرے رفیقو ! چلو کوئی داستان چھیڑو غمِ زمانہ کی بات چھوڑو ‘ یہ غم تو اب سازگار سا ہے […]
یوں بھی کٹ گئے کچھ دن تیرے سوگواروں کے۔۔۔
اس طرف سے گُزرے تھے قافِلے بہاروں کے آج تک سلُگتے ہیں زخم رہ گُزاروں کے خِلوتوں کے شیدائی خِلوتوں میں کِھلتے ہیں ہم سے پُوچھ کر دیکھو راز پردہ داروں کے گیسوؤں کی چھاؤں میں دل نواز چہرے ہیں یا حسیں دُھندلکوں میں پُھول ہیں بہاروں کے پہلے ہنس کے مِلتے ہیں پِھر نظر […]
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں۔۔
یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیں یہاں خود اپنے لیے بھی دعا کسی کی نہیں خزاں میں چاک گریباں تھا تو بہار میں میں مگر یہ فصل ستم ہم آشنا کسی کی نہیں سب اپنے اپنے فسانے سناتے جاتے ہیں نگاہ یار مگر ہم نوا کسی کی نہیں میں آج زد پہ […]
نظام۔صبر اور خرچ
محکمہ تھا، پرانا سا۔ دیواروں پر کیلنڈر پچھلے سال کا، پنکھا اپنی مرضی سے چل رہا تھا، اور باہر لمبی قطار ایسے کھڑی تھی جیسے مفت بریانی بٹ رہی ہو۔ بابو سلیم اپنی کرسی پر نیم دراز بیٹھا تھا۔ سامنے فائلوں کا ڈھیر، چہرے پر ایسا سکون جیسے سارے مسائل حل ہو چکے ہوں۔ اسی […]
تیرے ساحلوں سے ذرا پرے۔۔۔۔
تیری جستجو کے حصار سے ! تیرے خواب تیرے خیال سے میں وہ شخص ہوں جو کھڑا رہا تیری چاہتوں سے ذرا پرے _! کبھی دل کی بات کہی نہ تھی جو کہی تو وہ بھی دبی دبی میرے لفظ پورے تو تھے مگر__! تیری سماعتوں سے _ذرا پرے تو چلا گیا میرے ہمسفر____! ذرا […]
یوں آ رہا ہے آج لبوں پر کسی کا نام۔۔۔
یوں آرہا ہے آج لبوں پر کسی کا نام ہم پڑھ رہے ہوں جیسے چُھپا کر کسی کا نام سُنسان یُوں تو کب سے ہے کُہسارِ باز دِید کانوں میں گوُنجتا ہے برابر کسی کا نام دی ہم نے اپنی جان تو قاتِل بنا کوئی مشہُور اپنے دَم سے ہے گھر گھر کسی کا نام […]