Category: شاعری

شاعری

مت کرنا۔۔۔۔

کسی بھی وہم کو خود پر سوار مت کرنا خیال یار کو گرد و غبار مت کرنا خلاف واقعہ کچھ بھی ہو سن سنا لینا یہی طریقہ مگر اختیار مت کرنا تمہاری آنکھ میں نفرت ہو دوسروں کے لئے تم اپنی ذات سے اتنا بھی پیار مت کرنا نشہ چڑھا ہے تو پھر یہ اتر […]

کبھی تو بدلے۔۔۔۔

کبھی تو بدلے یہ ماتمی رُت اُداسیوں کی مری نگاہوں میں ایک سا شہرِ خواب کیوں ہے کبھی کبھی تیری بے نیازی سے خوف کھا کر میں سوچتا ہوں کہ تو میرا انتخاب کیوں ہے ترس گئے میرے آئینے اس کے خال و خد کو وہ آدمی ہے تو اس قدر لاجواب کیوں ہے اُسے […]

وفائے وعدہ بھی نہیں۔۔

وَفائے وَعدہ نہیں ٫ وَعدۂ دِگر بھی نہیں وہ مُجھ سے رُوٹھے تو تھے ٫ لیکن اِس قَدر بھی نہیں۔ بَرس رَھی ھے ٫ حَریمِ ھَوس میں ٫ دَولتِ حُسن گَدائے عِشق کے کاسے میں ٫ اِک نَظر بھی نہیں۔ نہ جانے کِس لیے ٫ اُمیدوار بیٹھا ھُوں اک ایسی راہ پہ ٫ جو تیری […]

دل سلگتا ہے میرا۔۔۔

اب کہاں اور کسی چیز کی جا رکھی ہے دل میں اک تیری تمنا جو بسا رکھی ہے سر بکف میں بھی ہوں شمشیر بکف ہے تو بھی تو نے کس دن پہ یہ تقریب اٹھا رکھی ہے دل سلگتا ہے ترے سرد رویے سے مرا دیکھ اس برف نے کیا آگ لگا رکھی ہے […]

یونہی۔۔۔۔۔

ھزار شُکر کہ ھم اھل حرف زندہ نے غنیم سے بھی عداوت میں حد نہیں مانگی کہ ھار مان لی لیکن مدد نہیں مانگی ھزار شکر کہ ھم اھل حرف زندہ نے مجاوران ادب سے سند نہیں مانگی بہت ھے لمحۂ موجود کا شرف بھی مجھے سو اپنے فن سے بقائے ابد نہیں مانگی قبول […]

بن مانگے مل گئے میری آنکھوں کو رتجگے۔۔۔

کیا عِشق تھا جو باعثِ رُسوائی بن گیا یارو تمام شہر تماشائی بن گیا بن مانگے مِل گئے مِری آنکھوں کو رتجگے میں جب سے ایک چاند کا شیدائی بن گیا دیکھا جو اُس کا دستِ حِنائی قرِیب سے احساس، گونجتی ہُوئی شہنائی بن گیا برہم ہُوا تھا میری کسی بات پر کوئی وہ حادثہ […]

یہ اداسیوں کے موسم۔۔۔۔

اِنہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤ وہ جو چارہ گر نہیں ہے اسے زخم کیوں دکھاؤ یہ اداسیوں کے موسم یونہی رائیگاں نہ جائیں کسی یاد کو پکارو، کسی درد کو جگاؤ وہ کہانیاں ادھوری، جو نہ ہو سکیں گی پوری انہیں میں بھی کیوں سناؤں انہیں تم بھی کیوں سناؤ […]

لوگوں سے کچھ۔۔۔۔

لوگوں سے کچھ بھید چُھپانے پڑتے ہیں درد کے کس کس دیس ٹھکانے پڑتے ہیں؟ سوئے رہنے میں بھی حکمت ھے پیارے ! جاگو تو پھر خواب سُلانے پڑتے ہیں البم کھول کے دیکھا تو احساس ہوا کیسے کیسے لوگ بھُلانے پڑتے ہیں دو اک دن کی بات جو ہوتی،مل جاتے ھم دونوں کے بیچ […]

یاد آیا بھی تو کیا یاد آیا

جو بھی دکھ یاد نہ تھا یاد آیا آج کیا جانیے کیا یاد ایا پھر کوئی ہاتھ ہے دل پر جسیے پھر ترا عہدِ وفا یاد آیا جس طرح دھند میں لپٹے ہوئے پھول آیک اِک نقش ترا یاد آیا ایسی مجبوری کے عالم میں کوئی یاد آیا بھی تو کیا یاد آیا اے رفیقو […]

ایسا نہیں کہ ۔۔۔۔۔۔

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی ضعف قویٰ نے آمد پیری کی دی نوید وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی سر میں وہ انتظار کا سودا نہیں رہا دل پر وہ دھڑکنوں کی حکومت نہیں رہی کمزوریٔ نگاہ نے سنجیدہ کر دیا جلووں […]

Back To Top