“محبت چھوڑ دی میں نے…….!!”
محبت کے زمانوں پہ
میں لکھتی اب بھی ہوں لیکن
میں دلآویز لمحوں کی، پزیرائی نہیں کرتی
مجھے اب رقص کرتی تتلیاں، راغب نہیں کرتیں
وہ چاھت چھوڑ دی میں نے
محبت چھوڑ دی میں نے
صحیفوں میں لکھے وہ لفظ تو الہام کی صورت
مقفل سے دلوں کو زنگ سے، آزاد کرتے ہیں
کتابوں میں رکھے کچھ پھول، جو مرجھائے جذبوں کو
سدا نوخیز رکھتے ہیں…. مجھے! اب وہ….. نہیں بھاتے…….
وہ عادت چھوڑ دی میں نے
محبت چھوڑ دی میں نے…..
کوئی جب روٹھ جائے تو، بڑی تکلیف ہوتی تھی
کبھی دل توڑ کے کوئی، میں خود بھی ٹوٹ جاتی تھی
کسی بھی آنکھ میں آنسو، کہاں میں دیکھ پاتی تھی
مگر ! ظالم زمانے نے……… مجھے یکسر بدل ڈالا
شرافت چھوڑ دی میں نے
نزاکت چھوڑ دی میں نے
کسی کے بھول جانے سے، مجھے اب کچھ نہیں ہوتا
کسی کے روٹھ جانے سے بھی، مجھ کو دکھ نہیں ہوتا
محبت ہی بقائے زندگی ، لازم نہیں ہوتی
میں اپنی عادتوں پر اب کبھی، نادم نہیں ہوتی
ندامت چھوڑ دی میں نے
مفاہمت چھوڑ دی میں نے
میں اپنے خواب لکھ لکھ کر، سبھی کے خواب بنتی تھی
کہیں پہ گھر بناتی تھی، کہیں سے پھول چنتی تھی
میرے کشکول میں، جو خواہشوں کے چند سکے تھے
میں سب میں بانٹ لیتی تھی تو خوشیاں چھانٹ لیتی تھی
وہ راحت چھوڑ دی میں نے
سخاوت چھوڑ دی میں نے
محبت کے زمانوں پہ
میں لکھتی اب بھی ہوں لیکن
وہ عادت چھوڑ دی میں نے…….
محبت چھوڑ دی میں نے…….!!!!!
____________
منقول