Category: شاعری

شاعری

کبھی یاد آؤں تو پوچھنا۔۔۔۔

کبھی یاد آؤں تو پوچھنا ذرا اپنی فرصتِ شام سے کِسے عِشق تھا تیری ذات سے کِسے پیار تھا تیرے نام سے ذرا یاد کر کہ وہ کون تھا جو کبھی تجھے بھی عزیز تھا وہ جو جی اُٹھا تیرے نام سے وہ جو مر مٹا تیرے نام پے ہمیں بے رُخی کا نہیں گلہ […]

خوابو ں کی دیکھ بھال میں۔۔۔۔

خوابوں کی دیکھ بھال میں آنکھیں اُجڑ گئیں تنہائیوں کی دُھوپ نے چہرا جلا دیا لفظوں کے جوڑنے میں عبارت بکھر چلی آئینے ڈھونڈنے میں کئی عکس کھو گئے آئے نہ پھر وہ لوٹ کے اِک بار جو گئے وہ دن، وہ وقت ، وہ رُت ، وہ موسم ، وہ سرکشی اے گردشِ حیات […]

یہ مزاج یار کو کیا ہوا۔۔۔۔

یہ مزاجِ یار کو کیا ہُوا، اُنہیں مُجھ سے پیار ہے آج کل مِری گُفتگُو ، مِری جُستجُو ، مِرا انتظار ہے آج کل تِرے خط نکال کے دیکھنا، کبھی چُومنا، کبھی سوچنا یہی مشغلہ، یہی سِلسلہ ، یہی کاروبار ہے آج کل نہ اکیلا گھر سے نِکل میاں ذرا دیکھ بھال کے چل میاں […]

کالا جادو۔۔۔۔

“کالا جادو” میرا تمام فن ، مری کاوِش، مرا ریاض اک نا تمام گیت کے مصرعے ہیں جن کے بیچ معنی کا ربط ہے نہ کسی قافیے کا میل انجام جس کا طے نہ ہوا ہو، اک ایسا کھیل! مری متاع ،بس یہی جادو ہے عشق کا سیکھا ہےجس کو میں نے بڑی مشکلوں کے […]

آنسو۔۔۔۔۔۔

ہائے وہ وقت جدائی کے ہمارے آنسو گر کے دامن پہ بنے تھے جو ستارے آنسو لعل و گوہر کے خزانے ہیں یہ سارے آنسو کوئی آنکھوں سے چرا لے نہ تمہارے آنسو ان کی آنکھوں میں جو آئیں تو ستارے آنسو میری آنکھوں میں اگر ہوں تو بچارے آنسو دامن صبر بھی ہاتھوں سے […]

آپ یونہی اگر۔۔۔۔۔

آپ یوں ہی اگر ہم سے ملتے رہے دیکھیے ایک دن پیار ہو جائے گا ایسی باتیں نہ کر او حسیں جادوگر میرا دل تیری آنکھوں میں کھو جائے گا پیچھے پیچھے مرے آپ آتی ہیں کیوں میری راہوں میں آنکھیں بچھاتی ہیں کیوں آپ آتی ہیں کیوں کیا کہوں آپ سے یہ بھی اک […]

میں تینوں فیر ملاں گی۔۔۔۔۔

‏میں تینوں فیر ملاں گی کِتھے؟ کس طرح؟ پتا نہیں شاید تیرے تخیل دی چھنک بن کے تیرے کینوس تے اتراں گی یا ہورے تیرے کینوس دے اُتے اک رہسمئی لکیر بن کے خاموش تینوں تکدی رواں گی یا ہورے سورج دی لو بن کے تیرے رنگاں اچ گھُلا گی یا رنگاں دیاں باہنواں اچ […]

کیا فنا ہے، کیا بقا ہے۔۔۔۔۔

کیا فنا ، ہے کیا بقا، سب واہمے رہ جائیں گے کھولنے والے، بس عقدے کھولتے رہ جائیں گے ابتدا و انتہا مٹی ، سو اتنا زعم کیوں ؟ خاک پر آخر میں بس کتبے لگے رہ جائیں گے درد کا عنوان ہوں گے ہم ، ترے جانے کے بعد زندگی کیا ، جاں کنی […]

تم چھپا لو مجھے۔۔۔۔

غم بڑھے آتے ہیں قاتل کی نگاہوں کی طرح تم چھپا لو مجھے، اے دوست، گناہوں کی طرح اپنی نظروں میں گُناہ گار نہ ہوتے، کیوں کر دل ہی دشمن ہے مخالف کے گواہوں کی طرح ہر طرف زیست کی راہوں میں کڑی دھوپ ہے دوست بس تیری یاد کے سائے ہیں پنا ہوں کی […]

میرے دکھ میں کراہنے والے۔۔۔۔

میرے دُکھ میں کراہنے والے شعلہ سامانِ جذبۂ جاں سوز حَرمِ عشق کے نیاز آموز جادۂ بندگی کے تُند خرام عشق میں خود سپردگی کے نام میری اصلاح ہے تجھے منظور یعنی ڈھے جائے میرا قصرِ غرور نہ رہے مجھ میں خویشتن داری ہو انا،نذرِ ناز برداری اپنی اصلاح کر رہا ہوں میں پندگر !لے […]

Back To Top