کسی پہ پورا کُھلے تُو تو پھر سوال بنے
گلاب دودھ میں گوندھے گئے تو گال بنے
تمہاری آنکھوں پہ لکھنے کو جی تو چاہتا ہے
حروف سوجھیں تو شاید کوئی خیال بنے
ترے لبوں کو ضرورت ہی کیا بہار کی ہے
تُو مسکرائی تو پھولوں کے کتنے تھال بنے
طلوع ہوتی سحر سے بنی حسیں آنکھیں
شبیں نچوڑی گئیں تو تمہارے بال بنے
وگرنہ شعروں کی اوقات کیا ہے شہزادی
تمہارے حسن پہ اُترے تو لازوال بنے
میثم علی آغا