“انتخاب “
سبز پیڑوں کو پتہ تک نہیں چلتا شایدزرد پتے بھرے منظر سے نکل جاتے ہیں🍂اس گزر گاہ محبت میں کہاں آ گیا میںدوست چپ چاپ برابر سے نکل جاتے ہیں میں ترے ہجر سے نکلوں گا تو مر جاؤں گاہائے وہ لوگ جو محور سے نکل جاتے ہیںتوقیر تقی
ترے غم کو جاں کی تلاش تھی
ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئےتری رہ میں کرتے تھے سر طلب سر رہ گزار چلے گئے تری کج ادائی سے ہار کے شب انتظار چلی گئیمرے ضبط حال سے روٹھ کر مرے غم گسار چلے گئے نہ سوال وصل نہ عرض غم نہ حکایتیں نہ شکایتیںترے عہد میں […]
“عورت “
عورت کا دل محبت کا ایک سمندر ھوتا ھے۔ ماں ، باپ ، بہن ، بھائی ، خاوند ، بچے سب سے وہ بہت پیار کرتی ھے اور اتنا کرنے پر بھی وہ ختم نہیں ھوتا۔ ایک دل کے ھوتے ھُوئے بھی وہ سب کو اپنا دل دے دیتی ھے۔ ”راجندر سنگھ بیدی“
از کرنل محمد خان
چند سال ہوئے انگلستان کے ایک مشہور ماہر تعلیم پاکستان آئے. ہم نے انہیں ایک انگلش میڈیم سکول دکھانے کے بعد فخر سے ان کی رائے پوچھی جو سننے کے قابل ہے. کہنے لگے: “بھئی آپ کی ہمّت قابل داد ہے جو اپنے بچوں کو ایک غیر ملکی زبان میں تعلیم دے رہے ہیں. اگر […]
مشتاق احمد یوسفی مزاحیہ اقوال
دوزخ میں گنہگار عورتوں کو ان کے پکائے ہوئے سالن زبردستی کھلائے جائیں گے غالب دنیا میں واحد شاعر ہے جو سمجھ میں نہ آئے تو دگنا مزہ دیتا ہے عورتیں پیدائشی محنتی ہوتی ہیں اس کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ صرف بارہ فیصد خواتین خوبصورت ہوتی ہیں باقی اپنی محنت سے وہ […]
میں نے دیکھا تھا اسے
میں نے دیکھا تھا اُن دِنوں میں اُسےجب وہ کھلتے گُلاب جیسا تھا اُس کی پلکوں سے نیند چَھنتی تھیاُس کا لہجہ شراب جیسا تھا اُس کی زُلفوں سے بھیگتی تھی گھٹااُس کا رُخ ماہتاب جیسا تھا لوگ پڑھتے تھے خال و خَذ اُس کےوہ اَدب کی کتابِ جیسا تھا بولتا تھا زبان خُوشبو کیلوگ […]
“سچ اور جھوٹ “
سچ اور جھوٹ کی شناخت ہر انسان کو یکساں میسر نہیں ہوتی۔ایسا ممکن ہے کہ دو انسان اپنی اپنی صداقت کے زعم میں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوں۔ایک انسان کا انداز فکر دوسرے انسان کے انداز فکر کے برابر نہیں ہوتا۔شعور اور ترجیحات کا فرق ایک ہی صداقت کے بیان میں فرق پیدا […]
” کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے “
کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہےکہاں ہو تم کہ یہ دل بے قرار آج بھی ہے وہ وادیاں وہ فضائیں کہ ہم ملے تھے جہاںمیری وفا کا وہیں پر مزار آج بھی ہے نا جانے دیکھ کے کیوں اُنکو یہ ہوا احساسکہ میرے دل پہ اُنہیں اختیار آج بھی ہے وہ پیار جس […]
بڑھاپا ایک آرٹ
“بڑھاپے کا آرٹ” صاحبوبوڑھا ہونا بھی ایک آرٹ ہےدن بہ دنجسم کی ختم ہوتی طاقتآنکھوں میں آتا دھندلا پنچہرے پر پڑتی ہوئ بے شمار جھریاںدماغ کی کم ہوتی صلاحیتزیادہ چلنے سے انکاری پاوںاور وزن کو نہ اٹھا سکنے والے بازووں کے درمیاناک دل ہی ہے جو شاید جوان رہتا ہےپر وہ بھی اسی صورت میںجب […]
انتخاب
آہ بن کر دل کے افسانے زباں تک آ گئےآگ بھڑکی تھی کہاں شعلے کہاں تک آ گئے اب تو آ جاؤ کہ رسوا ہو نہ جائے ظرف دلضبط غم کے مرحلے آہ و فغاں تک آ گئے اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا محبت کا صلہمیرے غم کے تذکرے ان کی زباں تک […]