یہ مزاج یار کو کیا ہوا۔۔۔۔

یہ مزاجِ یار کو کیا ہُوا، اُنہیں مُجھ سے پیار ہے آج کل
مِری گُفتگُو ، مِری جُستجُو ، مِرا انتظار ہے آج کل

تِرے خط نکال کے دیکھنا، کبھی چُومنا، کبھی سوچنا
یہی مشغلہ، یہی سِلسلہ ، یہی کاروبار ہے آج کل

نہ اکیلا گھر سے نِکل میاں ذرا دیکھ بھال کے چل میاں
بڑی ابتری ، بڑی رہزنی ، بڑی لُوٹ مار ہے آج کل

اِسے قتل کر، اُسے قتل کر، تُجھے سات خُون معاف ہیں
تِری سُلطنت ، تِرا دبدبہ ، تِرا اقتدار ہے آج کل

ارے کیفؔ کل تو تُو رِند تھا مِرے یار تُجھکو یہ کیا ہُوا
بڑا مذہبی ، بڑا پارسا، بڑا دین دار ہے آج کل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top