اوور تھنکنگ کا 3 سیکنڈ والا سوئچ
آپ کا دماغ آپ کا دشمن نہیں ۔۔۔۔۔۔ بس اس کا سافٹ ویئر پرانا ہے۔
اسے سمجھ لیں گے تو اوور تھنکنگ خود ختم ہو جائے گی۔
ہم اوور تھنک کیوں کرتے ہیں؟
1. دراصل یہ دماغ میں دو باس کی لڑائی ہے
آپ کے دماغ میں دو مالک ہیں۔
پہلا باس خوف کا الارم ایمیگڈالا
یہ بہت پرانا حصہ ہے اس کا صرف ایک کام ہے آپ کو خطرے سے بچانا اس کے لیے ہر نیا کام خطرہ ہے۔
آپ نے سوچا میں ویڈیو بناؤں؟
تو یہ 1 سیکنڈ سے بھی پہلے الارم بجا دیتا ہے کہ نہیں لوگ ہنسیں گے وہ کیا کہیں گے ایسا مت کرو۔
دوسرا باس عقل والا باس پری فرنٹل کورٹیکس
یہ اچھے فیصلے کرتا ہے لیکن یہ سست ہے۔
جب تک یہ سوچے پہلا باس اپنا ڈر والا الارم بجا کر آپ کو روک چکا ہوتا ہے۔
اسی لڑائی کا نام اوور تھنکنگ ہے۔
ڈر والا باس جیت جاتا ہے
عقل والا ہار جاتا ہے۔
2. جب آپ فارغ بیٹھے ہوتے ہیں تو دماغ کا ایک خاص سسٹم آن ہو جاتا ہے۔ اسے ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک یعنی ڈی ایم این کہتے ہیں۔
اس سسٹم کا کام ہی آپ کو بھٹکانا ہے۔
یہ آپ کو کبھی پرانی باتوں کی شرمندگی میں لے جاتا ہے کاش ایسا نہ کہتا اور کبھی آنے والے کل کے ڈر میں اگر فیل ہو گیا تو؟
آپ فارغ ہیں تو یہ سسٹم خود بخود آن ہو جاتا ہے۔
3. تھکاوٹ والا زہر (کورٹیسول):
جب بھی ایک منفی سوچ آتی ہے آپ کے جسم میں ایک زہریلا ہارمون بنتا ہے جس کا نام کورٹیسول ہے۔ یہ سٹریس والا ہارمون ہے۔
آپ جتنا زیادہ سوچتے ہیں یہ زہر اتنا بڑھتا ہے اسی لیے آپ نے کوئی جسمانی کام بھی نہیں کیا ہوتا پھر بھی اوور تھنکنگ کے بعد آپ کا جسم ٹوٹنے لگتا ہے
سر بھاری ہو جاتا ہے یہ اسی زہر کی وجہ سے ہے۔
کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے؟
دل میں آیا چلو کام کر لیتا ہوں اور دماغ نے فوراً کہا چھوڑ یار کل کریں گے تھک جاؤ گے لوگ کیا کہیں گے
بس یہی اوور تھنکنگ ہے۔
اس کا حل کیا ہے؟
3 سیکنڈ والا سوئچ
آپ نے صرف یہ کرنا ہے کہ پہلے باس کے بولنے سے پہلے ہی کام شروع کر دینا ہے۔
طریقہ بہت آسان ہے:
1. جب بھی دل میں خیال آئے کہ یہ کام کل کروں گا تو فوراً سمجھ جائیں پہلا باس بول پڑا ہے۔
2. فوراً دل میں بولیں 3… 2… 1…
3. اور اسی وقت جگہ سے ہل جائیں
بس ہلنا ہے پورا کام نہیں کرنا۔
نماز کا خیال آیا؟ 3-2-1 کہیں اور صرف وضو کے لیے کھڑے ہو جائیں ۔۔۔۔
ویڈیو بنانی ہے؟ 3-2-1 کہیں اور صرف موبائل کا کیمرہ آن کر لیں۔
پڑھائی کرنی ہے؟ 3-2-1 کہیں اور صرف کتاب کھول لیں
جیسے موٹر سائیکل کو دھکا لگانا مشکل ہوتا ہے ایک بار سٹارٹ ہو جائے تو خود چلتی ہے۔
آپ کا کام صرف پہلا دھکا دینا ہے۔
کیونکہ سوچ کو سوچ سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ سوچ کو صرف کام سے ختم کیا جا سکتا ہے۔
جب آپ 3-2-1 کہہ کر ہلتے ہیں تو دماغ کا سارا ڈر ختم ہو جاتا ہے اور دل میں ایک خوشی آتی ہے کہ شکر ہے کر لیا۔
ایک بار کر کے دیکھیں 10 سیکنڈ میں دل ہلکا ہو جائے گا۔
آج سے ایک وعدہ کریں کوئی بھی اچھا خیال آئے تو 3 سیکنڈ سے زیادہ نہیں سوچنا ۔۔۔ سیدھا 3-2-1 اور شروع۔