کافر وہ زلف پر شکن۔۔۔۔

کافر وہ زلف پُر شِکن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف
پھر اس پہ چشمِ سحر فن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

ہنگامِ رحلت دیکھیے ، دل کس طرف اپنا جُھکے
بیٹھے ہیں شیخ و برہمن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

ہیں آسمانِ حُسن کے ، روشن ستارے مہ جبیں
بازو پہ تیرے نورتن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

دل کی ، جگر کی ، جاۓ کیا افسردگی ، پژمردگی
زخمِ کُہن ، داغِ کُہن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

زلفوں کی یہ سرگوشیاں ، دل پر بلائیں لائیں گی
غماز ہے گرم سخن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

غیروں کا مجمع اور تم ، پریوں کا جُمگھٹ اور ہم
پہلو بہ پہلو انجمن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

دل ایک تنہا ! بِیچ میں آنکھیں تری ، سفاک دو
شمشیرِ زن ناوک فگن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

میں مر گیا ہوں وصل میں ، راحت ہو ہر پہلو مجھے
تکیے ہوں دو ، زیر کفن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

تو اور دھنے ، بائیں ہوں لیلیٰ و شیریں ، بزم میں
میں اور قیس و کوہ کن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

بازو تو چھٹے ہی نہیں ، صحرا کو کیوں کر جاؤں میں
لپٹے ہیں دو اہلِ وطن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

دونوں فرشتے دوش پر ، کیا لکھ سکیں حالت مری
آلودۂ رنج و محن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

رخسار تیرے سیم گوں ، پھر اس پہ گلگونے کا رنگ
پھولا ہے کیا رنگِ چمن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

اِترا رہا ہے داغؔ کیا ، ہنگامِ گُلگشتِ چمن
رنگیں قبا ، گُل پیرہن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top