کافر وہ زلف پُر شِکن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف
پھر اس پہ چشمِ سحر فن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف
ہنگامِ رحلت دیکھیے ، دل کس طرف اپنا جُھکے
بیٹھے ہیں شیخ و برہمن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف
ہیں آسمانِ حُسن کے ، روشن ستارے مہ جبیں
بازو پہ تیرے نورتن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف
دل کی ، جگر کی ، جاۓ کیا افسردگی ، پژمردگی
زخمِ کُہن ، داغِ کُہن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف
زلفوں کی یہ سرگوشیاں ، دل پر بلائیں لائیں گی
غماز ہے گرم سخن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف
غیروں کا مجمع اور تم ، پریوں کا جُمگھٹ اور ہم
پہلو بہ پہلو انجمن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف
دل ایک تنہا ! بِیچ میں آنکھیں تری ، سفاک دو
شمشیرِ زن ناوک فگن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف
میں مر گیا ہوں وصل میں ، راحت ہو ہر پہلو مجھے
تکیے ہوں دو ، زیر کفن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف
تو اور دھنے ، بائیں ہوں لیلیٰ و شیریں ، بزم میں
میں اور قیس و کوہ کن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف
بازو تو چھٹے ہی نہیں ، صحرا کو کیوں کر جاؤں میں
لپٹے ہیں دو اہلِ وطن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف
دونوں فرشتے دوش پر ، کیا لکھ سکیں حالت مری
آلودۂ رنج و محن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف
رخسار تیرے سیم گوں ، پھر اس پہ گلگونے کا رنگ
پھولا ہے کیا رنگِ چمن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف
اِترا رہا ہے داغؔ کیا ، ہنگامِ گُلگشتِ چمن
رنگیں قبا ، گُل پیرہن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف