کیا فنا ہے، کیا بقا ہے۔۔۔۔۔

کیا فنا ، ہے کیا بقا، سب واہمے رہ جائیں گے
کھولنے والے، بس عقدے کھولتے رہ جائیں گے
ابتدا و انتہا مٹی ، سو اتنا زعم کیوں ؟
خاک پر آخر میں بس کتبے لگے رہ جائیں گے

درد کا عنوان ہوں گے ہم ، ترے جانے کے بعد
زندگی کیا ، جاں کنی کے مرحلے رہ جائیں گے

شوق لے جائے گا مجھ کو جذب کی منزل تلک
سوچنے والے جہاں پر سوچتے رہ جائیں گے

مان کیا کرنا ہے ان پر، قصہٗ پارینہ میں
شہرتیں ، یہ عزتیں، یہ مرتبے رہ جائیں گے

یاد رہ جائیں گی اس کی دل ربا سرگوشیاں
پھول لفظوں کے سماعت میں کھلے رہ جائیں گے

تم نہیں ہو گے تو جگ میں کیا کمی ہو جائے گی
ہم نہ ہوں گے، کام ایسے کونسے رہ جائیں گے

وہ گزر جائے گا مانندِ صبا چُھو کر مجھے
‏’’ اُس کی یادوں کے مہکتے سلسلے رہ جائنگے

گر نہ کھولی گفتگو سے ، بدگمانی کی گرہ
درمیاں ، نسرینؔ کتنے فاصلے رہ جائیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top