ہائے وہ وقت جدائی کے ہمارے آنسو
گر کے دامن پہ بنے تھے جو ستارے آنسو
لعل و گوہر کے خزانے ہیں یہ سارے آنسو
کوئی آنکھوں سے چرا لے نہ تمہارے آنسو
ان کی آنکھوں میں جو آئیں تو ستارے آنسو
میری آنکھوں میں اگر ہوں تو بچارے آنسو
دامن صبر بھی ہاتھوں سے میرے چھوٹ گیا
اب تو آ پہنچے ہیں پلکوں کے کنارے آنسو
آپ للہ میری فکر نہ کیجئے ہرگز
آ گئے ہیں یوں ہی بس شوق کے مارے آنسو
دو گھڑی درد نے آنکھوں میں بھی رہنے نہ دیا
ہم تو سمجھے تھے بنیں گے یہ سہارے آنسو
تو تو کہتا تھا نہ روئیں گے کبھی تیرے لیـے
آج کیوں آ گئے پلکوں کے کنارے آنسو
آج تک ہم کو قلق ہـے اسی رسوائی کا
بہہ گئے تھے جو بچھڑنے پہ ہمارے آنسو
میرے ٹھہرے ہوئے اشکوں کی حقیقت سمجھو
کر رہـے ہیں کسی طوفاں کے اشارے آنسو
آج اشکوں پہ میرے تم کو ہنسی آتی ہـے
تم تو کہتے تھے کبھی ان کو ستارے آنسو
اس قدر غم بھی نہ دے کچھ نہ رہـے پاس میرے
ایسا لگتا ہـے کہ بہہ جائیں گے سارے آنسو
دل کے جلنے کا اگر اب بھی یہ انداز رہا
پھر تو بن جائیں گے اک دن یہ شرارے آنسو
تم کو رم جھم کا نظارہ جو لگا ہـے اب تک
ہم نے جلتے ہوئے آنکھوں سے گزارے آنسو
میرے ہونٹوں کو تو جنبش بھی نہ ہوگی لیکن
شدت غم سے جو گھبرا کے پکارے آنسو
میری فریاد سنی ہـے نہ وہ دل موم ہوا
یوں ہی بہہ بہہ کے میرے آج یہ ہارے آنسو
ان کو ناصرؔ کبھی آنکھوں سے نہ گرنے دینا
میری آنکھوں میں انہیں لگتے ہیں پیارے آنسو