کبھی یاد آؤں تو پوچھنا۔۔۔۔

کبھی یاد آؤں تو پوچھنا
ذرا اپنی فرصتِ شام سے

کِسے عِشق تھا تیری ذات سے
کِسے پیار تھا تیرے نام سے

ذرا یاد کر کہ وہ کون تھا
جو کبھی تجھے بھی عزیز تھا

وہ جو جی اُٹھا تیرے نام سے
وہ جو مر مٹا تیرے نام پے

ہمیں بے رُخی کا نہیں گلہ
کہ یہی وفاؤں کا ہے صلہ

مگر ایسا جرم تھا کونسا ؟
گئے ہم دعا ؤ سلام سے

کبھی یاد آؤں تو پوچھنا
ذرا اپنی فرصتِ شام سے

#UrduNagarPakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top