اب باتیں کرنے کا وقت نہیں ہے۔ عمل سے کام چلتا ہے۔ عمل کا طریقہ بتاتا ہوں، آپ ضرور عمل کرو تاکہ آپ کو اس مسئلہ سے نجات مل جائے
جب آپ دیکھو کہ کوئی شخص آپ سے غریب ہے تو اس کو اپنی دولت سے کچھ پیسہ نکال کے دے دو۔ یعنی جتنا آپ آسانی سے دے سکتے ہیں۔ یہ کام کرنا شروع کردو۔ اور جو آپ سے زیادہ امیر ہے اس کی دولت کی طرف رجوع نہ کرو بلکہ اس کے لیے دعا کرو کہ اللہ تعالٰی اس کو بھی توفیق عطا فرمائے کہ غریب کی مدد کرے۔ آپ کے پاس جو بھی توفیق ہے اس کے مطابق خرچ کرو۔
اگر نہیں ہے تو کم از کم اچھے الفاظ سے اس کی خدمت کر دو۔ تو اپنے سے کم کو پیسے دو، اپنے مال میں ان کا حصہ رکھو جو مال سے محروم ہیں، مال چاہے تمہارا خیال ہی کیوں نہ ہو۔ بس یہ کام کرتے جاؤ۔
اگر کبھی یہ وقت آ جائے جب آپ قوم کے امیر ہو جاؤ یا امیر المومنین بن جاؤ تو پھر آپ کا کام یہ ہے کہ غریب ترین اور امیر ترین کے درمیان کم ترین بن جاؤ ان کے درمیان فاصلہ کم کرو۔ جب غریب اور امیر کے درمیان فاصلہ بالکل کم کر دو گے تو سمجھو کہ قوم بچ گئی۔ اب تو غریب اور امیر کے درمیان بہت فاصلہ ہے، ایسا فاصلہ جو غریب پانچ ہزار سال میں طے نہیں کرسکتے۔
اب تو ملین کی بات نہیں بلکہ بلین کی Figure ہوتی ہے ، چھوٹے چھوٹے بینکوں میں بلین پڑے ہوتے ہیں۔
آپ کی قوم امیر ہو گئی ہے، مگر بندے غریب ہوتے جارہے ہیں۔ جس کے پاس پیسہ ہے، وہ بے تحاشہ ہے اور بے شمار محروم بھی موجود ہیں۔ اس لئے اتنا کام کرو کہ آپ اس کی مدد کرو جو محروم ہے اور دعا کرو کہ باقی لوگوں کو بھی توفیق ہو۔ تو غریب کی ضرور مدد کیا کرو۔
کیوں مدد کرنی چاہئے؟ اس لئے کہ کہیں محروم آدمی یا غلام آدمی کا ایمان نہ ضائع ہو جائے۔ اس لئے اس کی مدد کرنی چاہئے۔ دعا کرنی چاہئے کہ یا اللہ ! تجھ پر اس کا عقیدہ متزلزل ہو جائے گا اس لئے مجھے توفیق دے کہ میں اس کی مدد کروں اور پھر اس سے یہ کہو کہ بھائی غریبی بھی آجاتی ہے، امیری بھی آجاتی ہے ، مگر ایمان ضائع نہ کرو۔
تو غریب کی اس لئے مدد کرو کہ غریبی اس کو کافر نہ بنا دے۔ غریب کیسے کہتے ہیں، غریب وہ ہے جو آپ سے تھوڑے پیسے رکھتا ہو۔ جس کی تمنا زیادہ ہو وہ غریب ہوتا ہے۔ اس طرح اللہ راضی ہو جائے گا اور آپ کی دنیا بھی بہتر ہو جائے گی۔
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
گفتگو 6 صفحہ نمبر 156,157