مجھے اوڑھ لیتی ہیں۔۔۔۔

شال کی گرمائش
~~~~~~~~~~
مجھے اوڑھ لیتی ہیں
شال کی طرح یادیں تیری
سرد راتوں میں
جن کا وزن
دل تک اُتر جاتا ہے۔
سمندر اور محبت
ایک جیسے ہوتے ہیں
روز دیکھو
تو بھی نئے لگتے ہیں،
ہر بار
کسی اور رنگ میں۔
میں کنارے پر کھڑا
ہر روز
ایک ہی موج کو دیکھتا ہوں
مگر وہ
ہر بار
کچھ اور کہہ جاتی ہے۔
تیری یاد بھی
سمندر ہی کی طرح ہے
خاموش رہتی ہے
مگر اندر
مسلسل شور رکھتی ہے۔
کبھی
ہوا کی طرح لپٹتی ہے
کبھی
نمک بن کر آنکھوں میں
چبھ جاتی ہے۔
اور میں
ہر شام
اسی ساحل پر
یہ سوچتا ہوں
کچھ چیزیں
جتنی دیکھی جائیں
اتنی ہی
تازہ رہتی ہیں
جیسے سمندر
جیسے محبت
جیسے تم۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top