گردشوں کے ہیں مارے ہوئے۔۔۔

گردشوں کے ہیں مارے ہوئے نہ دشمنوں کے ستائے ہوئے ہیں
جتنے بھی زخم ہیں میرے دل پردوستوں کے لگائے ہوئے ہیں

جب سے دیکھا تیرا قدوقامت، دل پہ ٹوٹی ہوئی ہے قیامت
ہر بلا سے رہے تو سلامت، دن جوانی کے آئے ہوئے ہیں

اور دے مجھ کو دے اورساقی، ہوش رہتا ہے تھوڑا سا باقی
آج تلخی بھی ہے انتہا کی، آج وہ بھی پرائے ہوئے ہیں

کل تھےآباد پہلو میں میرےاب ہیں غیروں کی محفل میں ڈیرے
میری محفل میں کرکے اندھیرےاپنی محفل سجائے ہوئے ہیں

اپنے ہاتھوں سے خنجر چلا کر کتنا معصوم چہرہ بنا کر
اپنے کاندھوں پہ اب میرے قاتل میری میّت اٹھائے ہوئے ہیں

مہ وشوں کو وفا سے کیا مطلب ان بُتوں کو خدا سے کیا مطلب
ان کی معصوم نظروں نے ناصرؔ لوگ پاگل بنائے ہوئے ہیں

ناصر کاظمی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top