ہم نے اسے بھیجا تو کیا بھیجا۔۔۔

ہم نے بھیجا تو اسے کیا بھیجا
مثردہ ترک مدعا بھیجا

کس کا آشوب رمز ہے جس نے
خامشی کو صدا صدا بھیجا

یہ بھی ہے عرض شوق کا اک رنگ
ہم نے نامہ بر، رقیب کا بھیجا

دل نے بھیجی تجھے متاع وفا
دیکھ تو ، وہ بھی ، جو نہ تھا ، بھیجا

اس نے منزل کو بے نشاں رکھ کر
میرے قدموں کو راستہ بھیجا

سفر لذت طلب کیلئے
میں نے بلقیس کو سبا بھیجا

ہم جو خود بھی کہیں نہیں موجود
ہم نے اپنی طرف خدا بھیجا

ہائے رشتوں کی یہ نگہداری
اس کی قربت نے فاصلہ بھیجا

اپنی خلوت میں مخبری کے لیے
میں نے خود کو جدا جدا بھیجا

کیا خطا تھی پیمبروں کی بھلا
کیوں غریبوں کو بے خطا بھیجا

جون لوح و قلم کے مالک نے
دوسروں کا لکھا ہوا بھیجا…

جون ایلیاء..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top