اوجھل سہی نگاہ سے۔۔۔

اوجھل سہی نِگاہ سے ، ڈوبا نہیں ہُوں مَیں
اے رات ہوشیار….. کہ ہارا نہیں ہُوں مَیں

درپیش صُبح و شام یہی کشمکش ہے اب
اُس کا بنوں مَیں کیسے کہ اپنا نہیں ہُوں مَیں

مُجھکو فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں مگر
جتنا بُرا سمجھتے ہو ، اتنا نہیں ہُوں مَیں

اِس طرح پھیر پھیر کہ باتیں نہ کیجیئے
لہجے کا رُخ سمجھتا ہُوں بچّہ نہیں ہُوں مَیں

دِل کو گواہ کر کے لکھا ، جو بھی کچھ لکھا
کاغذ کا پیٹ بھرنے کو لکھتا نہیں ہُوں مَیں

ممکن نہیں ہے مُجھ سے یہ طرزِ منافقت
دُنیا تیرے مزاج کا بندہ نہیں ہُوں مَیں

امجد اسلام امجدؔ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top