نبھاتا کون ہے قول و قسم تم جانتے تھے
یہ قربت عارضی ہے کم سے کم تم جانتے تھے
رہا یے کون کس کے ساتھ انجام سفر تک
یہ آغاز مسافت ہی سے ہم تم جانتے تھے
مزاجوں میں اتر جاتی ہے تبدیلی مری جاں
سو رہ سکتے تھے کیسے ہم بہم تم جانتے تھے
سو اب کیوں ہر کس و نا کس یہ شکوہ شکایت
یہ سب سود و زیاں یہ بیش و کم تم جانتے تھے
فراز اس گمراہی پر کیا کسی کو دوش دہنا
کہ راہ عاشقی کے پیچ و خم تم جانتے تھے
احمد فراز