اے رنج آگہی۔۔۔۔

اے رنجِ آگہی ، کوئی چارہ تو ہوگا ناں
چل، خوش نہ رہ سکیں گے ، گزارا تو ہوگا ناں

یہ آرزو بھی وقت کے دھارے میں بہہ گئی
اب ناں سہی ، کبھی وہ ہمارا تو ہوگا ناں

جاتی ہے جو متاعِ دل و جاں تو کیا ملال
یہ عشق کی دکاں ہے ، خسارہ تو ہوگا ناں

ہر آن جسکا ذکر ہے، اس بےنیاز نے
بُھولے سے میرا نام ، پکارا تو ہوگا ناں

میں زادِ رہ کے طور پہ بس خواب لائی ہوں
اے ہمسفر تجھے یہ گوارا تو ہوگا ناں

کیا اجنبی بنیں گے اگر پھر کبھی ملے؟
کیا بات بھی نہ ہوگی ؟ اشارہ تو ہوگا ناں

کرنا کرانا چھوڑ ، زبانی ہی ساتھ دے
تنکے کا ہو اگرچہ ، سہارا تو ہوگا ناں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top