Category: شاعری

شاعری

وہ اجنبی اجنبی سے چہرے۔۔۔۔

محسن_نقوی وہ اجنبی اجنبی سے چہرے وہ خواب خیمے رواں دواں سے بسے ہوئے ہیں ابھی نظر میں سبھی منظر دھواں دھواں سے یہ عکسِ داغِ شکستِ پیماں، وہ رنگِ زخمِ خلوصِ یاراں میں غمگساروں میں سوچتا ہوں کہ بات چھیڑوں کہاں کہاں سے یہ سنگریزے عداوتوں کے، وہ آبگینے سخاوتوں کے دلِ مسافر قبول […]

نہ پھر نصیب ہوا۔۔۔

وہ مرے اس قدر قریب ہوا​ اس سے ملنا نہ پھر نصیب ہوا​ جس قدر سوچتا ہوں ہنستا ہوں​ آج ایک ماجرا عجیب ہوا​ آپ سے اب کوئی ملال نہیں​ شکر ہے کچھ سکوں نصیب ہوا​ دیکھ آیا ہے آج خود بھی انہیں​ آج کچھ مطمئن طبیب ہوا​ میں تو چپ ہی رہونگا محشر میں​ […]

تم آئے ہو۔۔۔۔

تم آئے ہو ؛ تمہیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوں…..؛؛؛ تمہارے ساتھ بھی کچھ دور جا کر دیکھ لیتا ہوں ہوائیں جن کی اندھی کھڑکیوں پر سر پٹکتی ہیں….؛؛؛ میں ان کمروں میں پھر شمعیں جلا کر دیکھ لیتا ہوں عجب کیا اس قرینے سے کوئی صورت نکل آئے تری باتوں کو خوابوں سے […]

کبھی تمنا کے راستوں پر نکل پڑو تو۔۔۔۔۔

کبھی تمنا کے راستوں پر نکل پڑو تو خیال رکھنا ہوائیں، بادل، فضائیں، موسم، خیال چہرے بدل بدل کر تمہیں ملیں گے تو لمحہ لمحہ بدلتے رنگوں کے شوق دھوکے میں آ نہ جانا کبھی جو چاروں طرف تمہارے کرن کرن اپنا خواب سا بدن نکھارے زمین پہ اترے تو دھندلکوں میں سما نہ جانا […]

آخر مجھے بکھرنا تھا۔۔۔۔

وہ کون لوگ تھے ، ان کا پتہ تو کرنا تھا مرے لہو میں نہا کر جنہیں نکھرنا تھا یہ کیا کہ لوٹ بھی آئے سراب دیکھ کے لوگ وہ تشنگی تھی کہ پاتال تک اترنا تھا گلی کا شور ڈرائے گا دیر تک مجھ کو میں سوچتا ہوں دریچوں کو وا نہ کرنا تھا […]

بارہا تجھ سے کہا تھا۔۔۔۔۔

بارہا تجھ سے کہا تھا مجھے اپنا نہ بنا اب مجھے چھوڑ کے دنیا میں تماشہ نہ بنا اک یہی دکھ مرے مرنے کے لیے کافی ہے جیسا تو چاہتا تھا مجھ کو میں ویسا نہ بنا ایک بات اور پتے کی میں بتاؤں تجھ کو آخرت بنتی چلی جائے گی دنیا نہ بنا جان […]

اک ذرا سی ہوا کے چلتے ہی۔۔۔۔۔

آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی کھل گئے شہر غم کے دروازے اک ذرا سی ہوا کے چلتے ہی کون تھا تو کہ پھر نہ دیکھا تجھے مٹ گیا خواب آنکھ ملتے ہی خوف آتا ہے اپنے ہی گھر سے ماہ شب تاب کے نکلتے ہی تو بھی جیسے […]

خواہشیں۔۔۔

جانے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں یہ آنکھیں مجھ میں راکھ کے ڈھیر میں، شعلہ ہے نہ چنگاری ہے اب نہ وہ پیار، نہ اس پیار کی یادیں باقی آگ یوں دل میں لگی کچھ نہ رہا، کچھ نہ بچا جس کی تصویر نگاہوں‌میں لیئے بیٹھی ہو میں وہ دلدار نہیں، اس کی ہوں خاموش چتا […]

مت کرنا۔۔۔۔

کسی بھی وہم کو خود پر سوار مت کرنا خیال یار کو گرد و غبار مت کرنا خلاف واقعہ کچھ بھی ہو سن سنا لینا یہی طریقہ مگر اختیار مت کرنا تمہاری آنکھ میں نفرت ہو دوسروں کے لئے تم اپنی ذات سے اتنا بھی پیار مت کرنا نشہ چڑھا ہے تو پھر یہ اتر […]

کبھی تو بدلے۔۔۔۔

کبھی تو بدلے یہ ماتمی رُت اُداسیوں کی مری نگاہوں میں ایک سا شہرِ خواب کیوں ہے کبھی کبھی تیری بے نیازی سے خوف کھا کر میں سوچتا ہوں کہ تو میرا انتخاب کیوں ہے ترس گئے میرے آئینے اس کے خال و خد کو وہ آدمی ہے تو اس قدر لاجواب کیوں ہے اُسے […]

Back To Top