کچھ تو احساس زیاں تھا پہلے۔۔۔۔

کچھ تو احساسِ زیاں تھا پہلےدل کا یہ حال کہاں تھا پہلے اب تو جھونکے سے لرز اٹھتا ہوںنشّۂ خوابِ گراں تھا پہلے اب تو منزل بھی ہے خود گرمِ سفرہر قدم سنگِ نشاں تھا پہلے سفرِ شوق کے فرسنگ نہ پوچھوقت بے قیدِ مکاں تھا پہلے یہ الگ بات کہ غم راس ہے اباس […]

پھر یوں ہوا۔۔۔۔

پھر یوں ہوا.کہ دل کی لگی, دل کو لگ گئیوه مجھے صبر کی عبادت سکھا گیاپھر یوں ہوا.کہ ساتھ تیرا چھوڑنا پڑاثابت ہوا کہ لازم و ملزوم کچھ نہیںپھر یوں ہوا.کہ بات حدوں سے نکل گئیکچھ خواب رنجشوں کی حراست میں مر گئے………..!

تجھے کیا خبر۔۔۔۔

سرِ طاقِ جاں نہ چراغ ہے ، پسِ بامِ شب نہ سحر کوئیعجب ایک عرصہِ درد ہے ، نہ گمان ہے نہ خبر کوئی تجھے کیا خبر ہے کہ رات بھر تجھے دیکھ پانے کو اِک نظررہا ساتھ چاند کے منتظر تری کھڑکیوں سے اُدھر کوئی

دل نہیں لگ رہا محبت میں

سر ہی اب پھوڑیے ندامت میںنیند آنے لگی ہے فرقت میں ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگرسوچتا ہوں تیری حمایت میں روح نے عشق کا فریب دیاجسم کو جسم کی عداوت میں اب فقط عادتوں کی ورزش ہےروح شامل نہیں شکایت میں عشق کو درمیاں نہ لاؤ کہ میںچیختا ہوں بدن کی عسرت میں یہ کچھ […]

زندگی کا سو نمبر کا پرچہ از روئے قرآن

چند برس پرانی بات ہے‘ ایک امریکی نو مسلم نے قرآن مجید سے حقوق العباد سے متعلق اللہ تعالیٰ کے 100 احکامات جمع کیے‘ یہ احکامات پوری دنیا میں پھیلے مسلم اسکالرز کو بھجوائے اور پھر ان سے نہایت معصومانہ سا سوال کیا کہ ’’ہم مسلمان اللہ تعالیٰ کے ان احکامات پر عمل کیوں نہیں […]

،،وسوسے۔۔۔

مجھ کو یقین ہے کہ میں جاؤں گا رائیگاں!جانے وہ کون لوگ تھے جو دُکھ نبھا گئے!! جب بھی ہِلے کواڑ تو لگتا ہے تم ہی ہویہ وسوسے تو یار مُجھے یوں ہی کھا گئے!!

دل دکھتا ہے۔۔۔۔۔

دل دکھتا ہےجب زخم دہکنے والے ہوںاور خوشبو کے پیغام ملیںاور اپنے دریدہ دامن کےجب چاک سلیںدل دکھتا ہےجب آنکھیں خود سے خواب بنیںخوابوں میں بسرے چہروں کوجب بھیڑ لگےاس بھیڑ میں جب تم کھو جاؤدل دکھتا ہےجب حبس بڑھے تنہائی کاجب خواب جلیں، جب آنکھ بجھےتم یاد آؤدل دکھتا ہے محسن نقوی

۔۔۔۔چھوڑ دی ہم نے

پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نےمعزز ہو گئے ہم بھی، شرافت چھوڑ دی ہم نے میسر آ چکی ہے سربلندی مڑ کے کیوں دیکھیںامامت مل گئی ہم کو تو امت چھوڑ دی ہم نے کسے معلوم کیا ہوگا مآل آئندہ نسلوں کاجواں ہو کر بزرگوں کی روایت چھوڑ دی ہم نے یہ […]

میرے حصے میں۔۔۔۔

مرے حصے میں کم کم آ رہا ہےکہاں تو یار بٹتا جا رہا ہے میسر چودھویں کا چاند بھی ہےاماوس کا مزا بھی آ رہا ہے ہمیں اس پھول سے یہ مسئلہ ہےکہ خوشبو چار سو پھیلا رہا ہے بچھڑنے تک یقیں تھا پھر یہ خطرہٹلے گا جس طرح ٹلتا رہا ہے نہ خود کو […]

پھر سے اک بار۔۔۔

پھر سے آنکھوں میں نئے خواب بچھانے ہوں گےسانس جب تک ہے نئے راہ بنانے ہوں گے جو ہمیں بھول گئے ہم کو بھلانے ہوں گےخود کو اب تازہ نئے روگ لگانے ہوں گے روز اک شخص کہانی سے نکل جاتا ہےکتنے کردار اکیلے کو نبھانے ہوں گے دودھ یہ سوچ کے خود روز پلا […]

Back To Top