پلٹ کر آنکھ نم کرنا۔۔۔۔
پلٹ کے آنکھ نم کرنا، مجھے ہرگز نہیں آتاگئے لمحوں کا غم کرنا، مجھے ہرگز نہیں آتا سرِ تسلیمِ خم کر کے بہت کچھ مل تو سکتا ہےسرِ تسلیمِ خم کرنا، مجھے ہرگز نہیں آتا محبت ہو تو بے حد ہو، جو نفرت ہو تو بے پایاںکوئی بھی کام کم کرنا، مجھے ہرگز نہیں آتا […]
،،محبوب، ،
اگر محبوب کو طالب مل جائے تو وہ محبوب کہلاتا ہے، ورنہ محبوب کی اور کوئی صفت نہیں، سوائے اس کے کہ کوئی چاہنے والا ہو۔ اگر کوئی چاہنے والا نہیں ہے تو کوئی کتنا ہی حسین ہو، بیکار ہے۔~واصف علی واصف
مجھے اب ڈر نہیں لگتا۔۔۔۔
مجھے اب ڈر نہیں لگتا کسی کے دور جانے سے تعلق ٹوٹ جانے سے کسی کے روٹھ جانے سے کسی کے مان جانے سے کسی کے آزمانے سے کسی کو آزمانے سے کسی کو یاد کرنے سے کسی کو بھول جانے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا کسی کو چھوڑدینے سے کسی کے چھوڑ جانے […]
مجھ سے ہر شخص یہاں تیرے سوا راضی ہے۔۔۔۔
جس کو رہتی تھی سدا فکر مری، دیکھو آجوہ مرے دل کی اُداسی پہ بڑا راضی ہے کتنا آسان سا نُسخہ ہے حصولِ حق کاخلق راضی ہے تو سمجھو کہ خُدا راضی ہے کچھ تو معلوم ہو آخر ترا معیار ہے کیا؟مجھ سے ہر شخص یہاں تیرے سوا راضی ہے فہیم رحمان آذرؔ
کہیں نغمگی میں وہ بین تھے۔۔۔۔۔
کہیں نغمگی میں وہ بین تھےکہ سماعتوں نے سنے نہیں کہیں گونجتے تھے وہ مرثیےکہ انیسؔ نے بھی کہے نہیں مری عدل گاہوں کی مصلحتمرے قاتلوں کی وکیل ہے مرے خانقاہوں کی منزلتمری بزدلی کی دلیل ہے مرے پاسباں مرے نقب زنمرا مُلک، مِلک یتیم ہے مرا دیس امیر سپاہ کا ہےمرا شہر ، مال […]
کال کوٹھڑی تیرا نام زندگی رکھا۔۔۔۔
نام دشمنِ جاں کا، خواب اور خوشی رکھاکال کوٹھری تیرا ، نام زندگی رکھا سوچ اور حقیقت میں ربط کاغذی رکھارخ رہا اندھیروں کا ، شوق آگہی رکھا جب چلن جہاں نے بس، اپنا بے حسی رکھاہم نے بھی گلہ اپنا ، صرف خامشی رکھا داستاں کہی جو بھی، تم کو مرکزی رکھااور خود پہ […]
تو نے مجھ کو کھو دیا، میں نے تجھے کھویا نہیں۔۔۔۔
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیںتو نے مجھ کو کھو دیا، میں نے تجھے کھویا نہیں نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھایوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں ہر طرف دیوار و در اور ان میں آنکھوں کے ہجومکہہ سکے جو دل کی حالت وہ […]
کسی کی چاہ میں۔۔۔۔
کسی کی چاہ میں ایسا بھی کیا سرشار ہو جاناکہ اپنے راستے کی آپ ہی دیوار ہو جانا بہانے ترک رسم و راہ کے خود ڈھونڈتے رہناکسی کو چاہنا اتنا کہ پھر بیزار ہو جانا یہ کیا عادت ہے دکھڑے ہر کسی کے سامنے روناجسے ملنا ، لپٹ جانا ، گلے کا ہار ہو جانا […]
۔۔۔۔تو کیا ہو گا!!
یہ نارسائی،یہ بےگانگی، یہ دوری، یہ چُپبہت طویل اگر ہو گئی، تو کیا ہو گا! تمہارے دھیان کے سائے میں جاگنے والیجو تھک کے آخرِ شب سو گئی، تو کیا ہو گا! سیماب ظفر
تم سے بہتر بھی نظم کیا ہو گی۔۔۔۔۔۔
مکمّل نظم” نظم الجھی ھوئی ھے سینے میںشعر اٹکے ھوئے ھیں ھونٹوں پر لفظ کاغذ پہ بیٹھتے ھی نہیںاڑتے پھرے ھیں تتلیوں کی طرح کب سے بیٹھا ھوا ھوں میں جانمسادہ کاغذ پہ لکھ کے نام ترا بس ترا نام ھی مکمّل ھےتم سے بہتر بھی نظم کیا ھو گی ؟ گلزار