،،سخاوت، ،

سخاوت کے انداز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“کیا تم نے دیکھا کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے اب تک اللہ کتنا کچھ خرچ کر چکا ہے لیکن اس سخاوت نے، جو کچھ اس کے ہاتھ میں ہے، اسے کم نہیں کیا”۔(بخاری: 7411) •۔ایک دوسری حدیث میں آتا ہے۔“اللہ تعالٰی سخی ہے، […]

اسے کہنا۔۔۔۔

اُس سمت چلے ہو تو بس اتنا اُسے کہنااب کوئی نہیں حرفِ تمنا اُسے کہنا اُس نے ہی کہا تھا تو یقیں میں نے کیا تھااُمید پہ قائم ہے یہ دُنیا اُسے کہنا دُنیا تو کسی حال میں جینے نہیں دیتیچاہت نہیں ہوتی کبھی رسوا اُسے کہنا زرخیز زمینیں کبھی بنجر نہیں ہوتیںدریا ہی بدل […]

زندگی نے ہر بار۔۔۔

۔تجربات تلخ نے ہر چند سمجھایا مجھےدل مگر دل تھا اسی محفل میں لے آیا مجھے حسن ہر شے پر توجہ کی نظر کا نام ہےبارہا کانٹوں کی رعنائی نے چونکایا مجھے دور تک دامان ہستی پر دیئے جلتے گئےدیر تک عمر گزشتہ کا خیال آیا مجھے ہر نظر بس اپنی اپنی روشنی تک جا […]

سجدے کیے ہیں پیکر تخلیق کار کو۔۔۔۔۔

حُسْنِ بِرِشْتَہ مل گیا ہے میرے یار کوکیسے سنبھالوں اب میں دلِ بے قرار کو تم زندگی میں آئیں تو کچھ یوں لگا مجھےجیسے بہشت مل گئی ہو خاک سار کو ہمت کہاں تھی دید کی لذت اٹھاسکوںحیرت سے تکتا رہ گیا تجھ شاہکار کو بیدار کرکے تیرے بدن کی حرارتیںمحسوس کرنا ہےمجھے اِس مشک […]

صبح آنکھیں ہیں، شام آنکھیں ہیں

صبح آنکھیں ہیں شام آنکھیں ہیںاب جواب و سلام آنکھیں ہیں چار سُو حسرتوں سے تکتی ہیںہر جگہ تیز گام آنکھیں ہیں جنبشِ ابرو اِنکی کیا کہئیےدلبروں کا پیام آنکھیں ہیں طنز لہجے میں اُنکے جچتا ہےجنکی حسنِ کلام آنکھیں ہیں میر و غالب کو سب سمجھتے ہیںشاعری کی امام آنکھیں ہیں تم نے آنکھوں […]

صلو علی النبی

ایک سچے واقعہ سے ماخوذMR. BRIAN COMPTONمیں سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی کنسٹرکشن کمپنی ہوختیف اے جی میں کام کرتا تھا۔ یہ کمپنی دنیا میں بہت سے بڑے ایئرپورٹ، ڈیم، اور ایٹمی بجلی گھر بنا چکی تھی ۔ اور اس وقت دنیا کا ایک بہت بڑا ائیرپورٹ بنانے میں مصروف تھی۔ اس […]

احمد فراز

اِس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کیآج پہلی بار اُس سے مْیں نے بے وفائی کی ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میںیا تو ٹوٹ کر رویا , یا غزل سرائی کی تج دیا تھا کل جن کو ہم نے تیری چاہت میںآج اُن سے مجبوراً تازہ آشنائی کی ہو چلا تھا جب […]

حکمت

ایک بادشاہ نے اعلان کر رکھا تھا کہ جو اچھی بات کہے گا اس کو چار سو دینار (سونے کے سکے) دیئے جائیں گےایک دن بادشاہ رعایا کی دیکھ بھال کرنے نکلااس نے دیکھا ایک نوے سال کی بوڑھی عورت زیتون کے پودے لگا رہی ہےبادشاہ نے کہا تم پانچ دس سال میں مر جاؤ […]

راضی۔۔۔۔۔

‏جس کو رہتی تھی سدا فکر مری، دیکھو آجوہ مرے دل کی اُداسی پہ بڑا راضی ہے کتنا آسان سا نُسخہ ہے حصولِ حق کاخلق راضی ہے تو سمجھو کہ خُدا راضی ہے کچھ تو معلوم ہو آخر ترا معیار ہے کیا؟مجھ سے ہر شخص یہاں تیرے سوا راضی ہے فہیم رحمان آذرؔ

Back To Top