آنکھ جو آج پھر تری نم ہے
یہ میں ہوں یا کوئی نیا غم ہے
زخم اب تک ہیں کیوں ہرے تیرے
تم تو کہتے تھے وقت مرہم ہے
عمر تھوڑی ہے اس مسافت کو
فاصلہ دو قدم سے گو کم ہے
بعد مدت پتہ لگا, تم تھے
میں تو سمجھا کہ جو گیا دم ہے
تم جو ہوتے تو پھر دوا بنتے
اب یہاں کون ابنِ مریم ہے
مہرباں تھی حیات تیرے تک
بعد تیرے وہ مجھ پہ برہم ہے
اتباف ابرک