تازہ ہیں ابھی یاد میں۔۔۔۔

تازہ ہیں ابھی یاد میں اے ساقئ گلفام
وہ عکسِ رخِ یار سے لہکے ہوئے ایام
وہ پھول سی کھلتی ہوئی دیدار کی ساعت
وہ دل سا دھڑکتا ہوا امید کا ہنگام

امید کہ لو جاگا غم دل کا نصیبہ
لو شوق کی ترسی ہوئی شب ہو گئی آخر
لو ڈوب گئے درد کے بے خواب ستارے
اب چمکے گا بے صبر نگاہوں کا مقدر

اس بام سے نکلے ترے حسن کا خورشید
اُس کنج سے پھوٹے گی کرن رنگِ حنا کی
اس در سے بہے گا تری رفتار کا سیماب
اُس راہ پہ پھولے گی شفق تیری قبا کی

پھر دیکھے ہیں وہ ہجر کے تپتے ہوئے دن بھی
جب فکرِ دل و جاں میں فغاں بھول گئی ہے
ہر شب وہ سیہ بوجھ کہ دل بیٹھ گیا ہے
ہر صبح کی لوتیر سی سینے میں لگی ہے

تنہائی میں کیا کیا نہ تجھے یاد کیا ہے
کیا کیا نہ دلِ زار نے ڈھونڈی ہیں پناہیں
آنکھوں سے لگایا ہے کبھی دست صبا کو
ڈالی ہیں کبھی گردنِ مہتاب میں باہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top