تیری صورت نگاہوں میں۔۔۔۔

تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے عشق تیرا ستائے تو میں کیا کروں
کوئی اتنا تو آ کر بتا دے مجھے جب تری یاد آئے تو میں کیا کروں

میں نے مانگی تھی یہ مسجدوں میں دعا میں جسے چاہتا ہوں وہ مجھ کو ملے
جو مرا فرض تھا میں نے پورا کیا اب خدا ہی نہ چاہے تو میں کیا کروں

حسن اور عشق دونوں میں تفریق ہے پر انہیں دونوں پہ میرا ایمان ہے
گر خدا روٹھ جائے تو سجدے کروں اور صنم روٹھ جائے تو میں کیا کروں

چشم ساقی سے پینے کو میں جو گیا پارسائی کا میری بھرم کھل گیا
بن رہا ہے جہاں میں تماشا مرا ہوش مجھ کو نہ آئے تو میں کیا کروں

🌹

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top