تیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھے
کبھی جھانکا تیری آنکھوں میں تو ہم ہی ہم تھے
.
لمَس کے دم سے بصارت بھی ،بصیرت بھی ملی
چھو کے دیکھا تو جو پتّھر تھے، نِرے ریشم تھے
.
تیری یادیں کبھی ہنستی تھیں، کبھی روتی تھیں
میرے گھر کے یہی ہیرے تھے، یہی نیلم تھے
.
برف گرماتی رہی، دُھوپ اماں دیتی رہی
دل کی نگری میں جو موسم تھے، تیرے موسم تھے
.
میری پونجی میرے اپنے ہی لہوُ کی تھی کشید
زندگی بھر کی کمائی میرے اپنے غم تھے
.
آنسوؤں نے عجب انداز میں سیراب کیا
کہیں بھیگے ہوُئے دامن، کہیں باطن نَم تھے
.
جن کے دامن کی ہَوا میرے چراغوں پہ چلی
وہ کوئی اور کہاں تھے، وہ میرے ہمدم تھے
.
مَیں نے پایا تھا بس اتنا ہی حقیقت کا سراغ
دُور تک پھَیلتے خاکے تھے، مگر مُبہم تھے
.
مَیں نے گرنے نہ دیا، مر کے بھی، معیارِ وقار
ڈوبتے وقت میرے ہاتھ، میرے پرچم تھے
.
مَیں سرِ عرش بھی پہنچا تو سرِ فرش رہا
کائناتوں کے سب امکاں میرے اندر ضَم تھے
.
عُمر بھر خاک میں جو اشک ہوُئے جذب ندیم
برگِ گُل پر کبھی ٹپکے تو وہی شبنم تھے
.