جلا دیا شجر جاں۔۔۔۔

جلا دیا شجرِ جاں ـــــــ کہ سبز بخت نہ تھا
کسی بھی رُت میں ہَرا ہو‘ یہ وُہ درخت نہ تھا

وُہ خُواب دیکھا تھا شہزادیوں نے پچھلے پہر
پھر اُس کے بعد مقدر میں‘ تاج و تخت نہ تھا

ذرا سے جبر سے مَیں بھی تو ٹُوٹ سکتی تھی
مِری طرح سے طبیعت کا وُہ بھی سخت نہ تھا

مِرے لیے تو وُہ خنجر بھی پُھول بن کے اُٹھا
زُبان سخت تھی‘ لہجہ کبھی کرخت نہ تھا

اندھیری راتوں کے تنہا مسافروں کیلئے
دِیا جلاتا ہُوا کوئی سازب و رخت نہ تھا

گئے وُہ دِن کہ مُجھی تک تھا میرا دُکھ محدُود
خبر کے جیسا،،، یہ افسانہ‘ لخت لخت نہ تھا

(خوشبوؤں کی شاعرہ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top