ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں
شکریہ مشورت کا چلتے ہیں
اُس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں
ہم کہیں ٹالنے سے ٹلتے ہیں
ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد
دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں
ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں
کیا تکلّف کریں، یہ کہنے میں
جو بھی خوش ہے، ہم اس سے جلتے ہیں
ہے اُسے دُور کا سفر در پیش
ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں
تم بنو رنگ، تم بنو خوشبو
ہم تو اپنے سخن میں ڈھلتے ہیں
میں اسی طرح تو بہلتا ہوں
اور سب جس طرح بہلتے ہیں
ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی
چل نہ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں
ہم کوئی بد معاملہ تو نہیں
زخم کھاتے ہیں، زہر اُگلتے ہیں
شام فرقت کی لہلہا اُٹھی
وہ ہوا ہے کہ زخم پھلتے ہیں
جونؔ ایلیا