دل ملا اور غم شناس ملا۔۔۔۔

دِل مِلا ، اور غم شناس مِلا
پُھول کو آگ کا لباس مِلا

ہر شناور بھنور میں ڈوبا تھا
جو سِتارہ مِلا ، اُداس مِلا

مَیکدے کے سِوا ہمارا پتہ
تیری زُلفوں کے آس پاس مِلا

مُجھکو تقدیر کی گُزرگہ میں
صرف تدبیر کا ہراس مِلا

آبِ رضواں کی دُھوم تھی ساغرؔ
سادہ پانی کا اِک گلاس مِلا

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top