دکھ ہے۔۔۔۔

مسلسل رائیگانی کا دکھ ہے
ہائے مجھے گزری جوانی کا دکھ ہے

وہ فقط لیتے تھے محبت کا نام
مجھے اپنی خندہ پیشانی کا دکھ ہے

وہ میرے دل۔میں گھر کر گیا مگر
مجھے اپنی لامکانی کا دکھ ہے

وہ جو چیخ رہی میرے اندر ہی اندر
مجھے اپنی اس بے زبانی کا دکھ ہے

جس میں جل کر راکھ ہوئے میرے خواب
آج تلک اس اک رات سہانی کا دکھ ہے

کتنی تدبیریں کی کتنے وظیفے قصیدے
ٹل نہ سکی اس وحشت ناگہانی کا دکھ ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top