رنگِ رخسار کی شوخی کو شرارت کر کے
مڑ کے دیکھا ہی نہیں تم نے محبت کر کے
منزلِ لیلی تری حد سے گزر جاتے ہیں
صبح کو گام تری شب کو مسافت کر کے
دل نے ہر حال محبت کو عبادت جانا
ورنہ کیا کیا نہ ہوئے لوگ سیاست کر کے
ہم کہ اس کے لیے اپنے بھی خریدار نہیں
عشق ہوتا ہی نہیں اپنی تجارت کر کے
لب بہ جاں ٹھہرے کبھی دل پہ قیامت ٹھہرے
دل میں رکھا ہے تجھے کیا کیا صورت کر کے
وصل کا خواب رہا دیدہِ بے خواب میں بھی
ہجر سے ہجر قیامت سے قیامت کر کے
کچھ تو ہم یار ہوئے طرزِ تغافل عامؔر
اور کچھ لوگ بھلا دیتے ہیں عادت کر کے